امریکا سفارت کاری کو مطالبات منوانے کے لیے استعمال کرتا ہے، ایرانی وزارت خارجہ

امریکا سفارت کاری کو مطالبات منوانے کے لیے استعمال کرتا ہے، ایرانی وزارت خارجہ

امریکا اسرائیل کے غلط اندازے اور اشتعال انگیزی کے باعث جنگ میں شامل ہوا، اسماعیل بقائی

تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سفارت کاری کو مطالبات منوانے یا طاقت کے استعمال کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل کے غلط اندازے اور اشتعال انگیزی کے باعث جنگ میں شامل ہوا۔ دنیا میں اب کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کرسکتا۔

ترجمان کے مطابق امریکا سفارت کاری کو یا تو اپنے مطالبات منوانے کے لیے استعمال کرتا ہے یا طاقت کے استعمال کے لیے، ماضی کے مذاکرات کو بھی امریکا نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے استعمال کیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں اور وہ جاری جنگ کے باعث عوامی سطح پر نہیں آرہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی عوام امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی مذاکرات یا سفارتکاری کے لیے تیار نہیں، گرلز اسکول پر ہونے والے حملے میں کم از کم 170 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی قیادت نے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے جس پر غور جاری ہے تاہم اس کے لیے سخت شرائط بھی سامنے رکھ دی گئی ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی نئی قیادت ماضی کے مقابلے میں کم شدت پسند اور زیادہ سمجھدار ہے اور اسی قیادت نے جنگ بندی کے لیے رابطہ کیا ہے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ کسی بھی جنگ بندی کا فیصلہ اُس وقت ہوگا جب اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی اور محفوظ ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا اور ان کے بقول یہ ہدف حاصل کرلیا گیا ہے۔

Related posts

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج قوم سے اہم خطاب کریں گے

امریکا اسرائیل کے غلط اندازے اور اشتعال انگیزی کے باعث جنگ میں شامل ہوا، ایران

یہ ہماری جنگ نہیں ہے، برطانوی وزیر اعظم کا دو ٹوک جواب