مذاکرات کے امریکی دعوے مسترد، تل ابیب اور امریکی اڈوں پر ملٹی وارہیڈ میزائلوں سے حملہ

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے دعووں کے باوجود امریکا، اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری ہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن مذاکرات کے دعوے مسترد کر دیے ہیں، اور گزشتہ شب بھی ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایران میں بھی توانائی سے متعلق اہم سہولیات پر حملے رپورٹ ہوئے ہیں، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے خاص طور پر اصفہان اور خرم شہر کے علاقوں میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر پاسداران انقلاب نےکہا ہے کہ  آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت حملوں کی نئی لہر کا آغاز کردیا، 78ویں لہر کے دوران خطے میں امریکی اہداف اور اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا۔

پاسداران انقلاب کے مطابق ایلات، دیمونا اور شمالی تل ابیب سمیت مختلف اہداف پر ملٹی وارہیڈ میزائل اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے۔

پاسداران انقلاب کے مطابق ان کارروائیوں میں عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اب تک پاسداران انقلاب کی زیادہ تر جنگی یونٹس اور بسیج فورسز کو مکمل طور پر میدان میں نہیں اتارا گیا، تاہم ضرورت پڑنے پر انہیں بھی شامل کیا جائے گا۔

ادھر  ایرانی فوج نے امریکی صدر کو پیغام دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ آسمان کی طرف دیکھو، نیا سرپرائز آنیوالاہے،بہت بڑےنتائج سامنے آئیں گے۔

ایرانی فوجی اہلکار نےکہا صدر ٹرمپ ٹیلیفون اورسوشل میڈیا سے اپنا سرہٹائیں اور اپنی آنکھوں کو آسمان، اسٹاک مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز کریں، ایران بڑا سرپرائز دینے والا ہے۔

پاسداران انقلاب کےختم الانبیابریگیڈ کے ترجمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کا جملہ طنزا دہرایا کہ ٹرمپ ‘یو آر فائرڈ، تھینک یو فاراٹینشن ٹو دِس میٹر’۔

دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک عمارت شدید متاثر ہوئی، جبکہ چار افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں، اسرائیل ایمرجنسی میڈیکل سروس نے متعدد ٹیمیں وسطی اسرائیل میں جائے وقوعہ پر روانہ کیں تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے اور متاثرہ جگہوں کا معائنہ کیا جائے۔

تازہ فوٹیج میں مرکزی تل ابیب کے علاقے میں بھاری نقصان دکھائی دیا، جہاں گلیوں، گاڑیوں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ ریسکیو اہلکار اور پولیس ملبے ہٹانے اور ممکنہ پھنسے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

ایران کی جانب سے داغے گئے ہر میزائل میں تقریباً 100 کلو وزنی وار ہیڈ شامل تھا، جس سے قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا، آگ بجھانے والی ٹیموں نے فوری کارروائی کی، جس سے نقصان اور ہلاکتیں محدود رہیں۔

تازہ حملوں کے دوران ایران نے ڈیمونا شہر کو بھی نشانہ بنایا، جو اسرائیل کا اہم نیوکلئر سہولتوں کا مرکز ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے جنوبی اسرائیل کو خاص ہدف بنانے کی واضح حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

سعودی عرب نے رات کے وقت مشرقی علاقوں میں 20 سے زائد ڈرونز کو روکا، کویت نے ڈرون اور میزائل حملوں کا جواب دیا، جبکہ بحرین میں الارم سائرن بجائے گئے۔

امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں 6 ایرانی شہید جبکہ 9 زخمی 

دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بھی ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایسٹ آذربائیجان صوبہ کے ایک رہائشی علاقے میں امریکی اور اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد شہید اور 9 زخمی ہو گئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حملہ شہید مفتح میں ہوا، جو ایران کے شمال مغرب میں واقع ہے اور آرمینیا، آذربائیجان اور ترکی کی سرحد کے قریب ہے۔

صوبائی حکام نے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں بنیادی انفراسٹرکچر اور رہائشی مکانات بھی نقصان اٹھا چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

Related posts

یو اے ای ورلڈ ہیپی نیس انڈیکس میں پہلا عرب، عالمی سطح پر 21 ویں نمبر پر ہے۔

خلیج میں بڑھتی کشیدگی سے بھارتی معیشت پر دباؤ بڑھنے لگا

گزشتہ روز تاریخی کمی کے بعد سونا آج پھر مہنگا