جدید جنگی ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کرنے والا ایف 35 لائٹننگ 2 دنیا کے سب سے جدید اور خطرناک لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتا ہے، جسے امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ طیارہ آج تک کسی حملے کا شکار نہیں ہوا تھا، لیکن گزشتہ روز ایران نے اس طیارے کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا اور ایکس پر حملے کی ویڈیو جاری کی گئی، امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ طیارے کو معمولی نقصان پہنچا ہے اور پائلٹ بھی محفوظ ہیں۔
📹 لحظه انهدام جنگنده F35 بر فراز آسمان ایران
روابط عمومی سپاه:
این جنگنده بامداد امروز توسط سامانه پدافند نوین پیشرفته هوافضای سپاه مورد اصابت و آسیب جدی قرار گرفت
سرنوشت این جنگنده مشخص نیست و در دست بررسی است و احتمال سقوط آن بسیار است pic.twitter.com/jQnPgAy3cd
— خبرگزاری تسنیم (@Tasnimnews_Fa) March 19, 2026
امریکی طیارہ ایف 35 لائٹننگ 2 کو دنیا کے دیگر جنگی طیاروں میں فوقیت کیوں حاصل ہے آئیے اس کی خصوصیات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
![]()
امریکی فضائیہ کا غرور اور طاقت کی علامت سمجھا جانے والا یہ طیارہ یہ اسٹیلتھ طیارہ اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ریڈار اور دیگر جدید نظام بھی اسے آسانی سے پکڑ نہیں سکتے۔
یہی خصوصیت اسے دشمن کے دفاعی نظام اور جنگی طیاروں کو پہلے ہی نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتی ہے، جس سے فضائی برتری حاصل کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

ایف 35 لائٹننگ 2 دراصل ایک مکمل فیملی ہے جس کی مختلف اقسام مختلف ضروریات کے مطابق تیار کی گئی ہیں۔ ایف 35 اے سب سے عام ماڈل ہے جو عام رن وے سے اڑان اور لینڈنگ کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ایف 35 بی مختصر رن وے یا عمودی انداز میں اترنے کی صلاحیت کے باعث خاصا منفرد ہے۔
Upload Video![]()
دوسری جانب ایف 35 سی کو طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل کا مخصوص ورژن ایف 35 آئی جدید مقامی ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طیارے کی سب سے بڑی طاقت اس کی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید سینسرز اور تیز رفتار کمپیوٹنگ سسٹم کا امتزاج ہے، جو پائلٹ کو 360 ڈگری معلومات فراہم کرتا ہے۔

یہ خصوصیات نہ صرف دشمن کو پہلے دیکھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ دیگر فوجی یونٹس کے ساتھ فوری رابطہ اور مشترکہ کارروائی کو بھی ممکن بناتی ہیں۔
ایف 35 لائٹننگ 2 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کی قیمت عام طور پر 2025-2026 کے دوران فی یونٹ تقریباً 82 ملین ڈالر سے لے کر 100 ملین ڈالر سے زائد تک ہوتی ہے، جو اس کے مختلف ماڈلز اے، بی اور سی اور پیداوار کے مرحلے پر منحصر ہے۔

سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ماڈل ایف 35 اے ہے، جس کی بنیادی (فلائی اوے) لاگت تقریباً 82.5 ملین ڈالر ہے، تاہم اس میں انجن شامل نہیں ہوتا، جبکہ مکمل پروگرام کی مجموعی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف 35 لائٹننگ2 جدید فضائی جنگ کا رخ بدل رہا ہے، جہاں رفتار سے زیادہ معلومات اور بروقت فیصلہ کن حملہ کامیابی کی کنجی بن چکے ہیں۔
