مودی کی روس نواز پالیسی؛ بھارتی نوجوان غیرملکی جنگ کا ایندھن بن گئے
بھارتی نوجوانوں کو نوکریوں کے جھانسے دے کر روس لے جا کر جنگی محاذوں پر دھکیل دیا گیا
مودی کی روس نواز پالیسیوں کے باعث بھارتی نوجوان غیر ملکی جنگ کا ایندھن بن گئے، بھارتی نوجوانوں کو نوکریوں کے جھانسے دے کر روس لے جا کر جنگی محاذوں پر دھکیل دیا گیا ہے۔
بھارت کا اپنا جریدہ ” ٹائمز آف انڈیا” دیارِ غیر میں پرائی جنگیں لڑتے بھارتی شہریوں کی اموات کی تفصیلات سامنے لے آیا۔
بھارتی جریدے کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ سے تعلق رکھنے والا نوجوان سمر جیت سنگھ روس میں جنگ لڑتے ہوئے ہلاک ہوگیا، سمرجیت سنگھ 2025 میں اعلیٰ تعلیم اور بہتر روزگار کی تلاش میں روس گیا تھا۔
ٹائمز آف انڈیا نے بتایا کہ سمرجیت سنگھ کے روس منتقل ہونے کے چند ماہ بعد ہی خاندان کا اس سے تمام رابطہ منقطع ہو گیا تھا، ان کے اہلِ خانہ نے کئی ماہ تک بھارتی سرکاری اداروں اور وزارتِ خارجہ سے مدد کی متعدد اپیلیں کیں۔
سمرجیت سنگھ کے والد نے سفاک مودی کی مجرمانہ بے حسی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ بیٹے سے رابطے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر کسی نے ہمیں کوئی مدد فراہم نہیں کی۔
بھارتی وزارت خارجہ نے گزشتہ دسمبر میں خود تسلیم کیا کہ 202 بھارتی شہری روسی فوج میں بھرتی ہوئے جن میں 26 ہلاک ہو چکے جبکہ 7 لاپتہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے روس سے اسٹریٹجک قربت اور سستے تیل کے مفادات کے لیے بھارتی نوجوانوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دیں، روزگار کے جھانسے سے نوجوانوں کو بیرونِ ملک بھیج کر جنگی محاذوں تک پہنچانا مودی سرکار کی سنگین پالیسی ناکامی اور بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سمرجیت سنگھ کا واقعہ محض ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ نااہل مودی کے اندرونی معاشی کھوکھلے پن اور ناکام سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔