سانس لیتے وقت ناک کا ایک نتھنا زیادہ دوسرا کم فعال کیوں ہوتا ہے؟ وجہ سامنے آگئی
اس عمل کو نیزل سائیکل کہا جاتا ہے
آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ سانس لیتے وقت ناک کا ایک نتھنا زیادہ فعال ہوتا ہے دوسرا کم تاہم اب اس کی وجہ سامنے آگئی ہے۔
ہمارے ناک کے نتھنے دن میں کئی بار، ہمیں معلوم ہوئے بغیر، باری باری زیادہ فعال ہو جاتے ہیں یہ قدرتی ترتیب ہے جو ہر چند گھنٹوں میں خودبخود بدل جاتی ہے، جیسے کوئی خاموش نظام ہماری سانس کو ریگولیٹ کر رہا ہو۔
اس عمل کو نیزل سائیکل کہا جاتا ہے یہ انسان کے خودکار اعصابی نظام (autonomic nervous system) کا حصہ ہے جو کہ صحت کے لیے بے حد اہم ہے۔
جب ایک نتھنا سانس کے بہاؤ کے لیے زیادہ کھلا ہوتا ہے، تو دوسرا جزوی طور پر سوج جاتا ہے تاکہ اس کا بہاؤ کم ہو جائے۔ کچھ دیر بعد، دونوں کی حالتیں بدل جاتی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس عمل سے ناک کا اندرونی حصہ نم رہتا ہے، روزانہ تقریباً 12,000 لیٹر ہوا ناک سے گزرتی ہے، اس لیے یہ جراثیم کے خلاف پہلی حفاظتی دیوار ہے اور اس وقفے کے ذریعے جراثیم و گرد کو فلٹر کرنے کی صلاحیت برقرار رہتی ہے، اس طرح یہ سونگھنے کی قوت کو بہتر انداز میں تقسیم کرتا ہے۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جب دایاں نتنھا زیادہ فعال ہوتا ہے سے تو اس لمحے جسم زیادہ چوکس یا تناؤ کی حالت میں ہوتا ہے تاہم جب بایاں نتھنا زیادہ سانس لے رہا ہوتا ہے تو جسم زیادہ پرسکون حالت میں ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فائبر مکسنگ: آنتوں کی صحت کا نیا رجحان، ماہرین نے فائدے بتادیے
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر آپ ایک نتھنے سے لمبے وقت تک سانس لیں، تو دماغ میں سرگرمی بھی اس طرف تھوڑی زیادہ ہو سکتی ہے۔ یوگا کی مشقوں میں بھی ناک کے ایک نتھنے سے سانس لینے کو ذہنی سکون سے جوڑا گیا ہے، شاید اسی سائنسی بنیاد پر۔
تو اگلی بار جب آپ تھکن یا بے چینی محسوس کریں، ایک لمحے کو رک کر غور کریں کون سا نتھنا زیادہ فعال ہے؟ شاید قدرت خاموشی سے آپ کی سانسوں سے آپ کے جذبات کو متوازن رکھنے کی کوشش کر رہی ہو۔