یہ عام سی عادت میٹابولزم کو تیز کرسکتی ہے
میٹابولزم ایک کیمیائی عمل ہے جس میں خلیات کھانے کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں
صحت کا دارومدار نظام انہضام پر ہے ہاضمہ جتنا بہترہوگا غذا اتنی ہی بہتر انداز میں ہضم ہوکر جسم کا حصہ بنے گی۔ غذا کے ہضم ہونے کا یہ سارا معاملہ ایک خاص عمل کے تحت انجام پاتا ہے جسے میٹابولزم کہاجاتا ہے۔
میٹابولزم ایک کیمیائی عمل ہے جس میں خلیات کھانے کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں یعنی یوں کہہ لیں کہ کھانے کوتیزی سے ہضم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے میں میٹابولزم اہم کرداراداکرتاہے، اسی لیے اگر کسی انسان کامیٹابولزم سست ہوتو وہ ڈائٹ کے باوجود وزن کم نہیں کرپاتا۔
ماہرین صحت صبح بیدار ہوتے ہی نہار منہ ایک گلاس پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ صحت پر حیرت انگیز اثرات جیسے نظام انہضام کو تیز اور وزن کم کرنے میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں لوگوں کی اکثریت اب بھی اسی شش و پنج میں مبتلا ہے کہ صبح ٹھنڈا پانی پینا بہتر ہے یا نیم گرم۔
گرم یا ٹھنڈا پانی پینے کے حوالے سے بات کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ برف کا ایک گلاس پانی پینے سے کچھ کیلوریز کم ہوتی ہے تاہم زیادہ نہیں۔
واشنگٹن یونیورسٹی کے مطابق، کمرے کے درجہ حرارت کے پانی کی نسبت ٹھنڈے پانی کے ہر کپ کے ساتھ آپ 8 سے زیادہ کیلوریز جلاتے ہیں۔
کمرے کے درجہ حرارت کے پانی کے مقابلے میں ٹھنڈا پانی پینے سے زیادہ کیلوریز استعمال میں آنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپ کا جسم ٹھنڈا پانی پینے کے نتیجے میں جسم کے درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی استعمال کرتا ہے، تاکہ جسم کا درجہ حرارت 98.6 ڈگری فارن ہائیٹ رہے۔ اگر آپ وزن کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو وہ اضافی 8 کیلوریز، چاہے آپ روزانہ کئی گلاس ٹھنڈا پانی پی لیں پھربھی کیلوریز کی یہی مقدار رہے گی۔
یہ بات کسی قدر اہم ہوسکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پانی پینا چاہے وہ ٹھنڈا ہو یا گرم، آپ کے میٹابولزم کو بڑھانے، زیادہ کھانے کو روکنے اور سوڈا یا دیگر میٹھے مشروبات سے زیادہ کیلوریز بچانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اگرچہ ایک کپ گرم پانی معدے کو سکون فراہم کرتا ہے تاہم یہ بات سائنس سے ثابت نہیں ہوئی ہے کہ جسم اسے مختلف طریقے سے جذب کرتا ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ پانی پینا صحت اور تنرستی کے لیے اس درجہ حرارت سے زیادہ اہم ہے جس پر اسے پیش کیا جاتا ہے۔