رمضان المبارک کی روٹین دیگر مہنیوں سے مختلف اور مصروف ترین ہوتی ہے روزے، نمازوں اور خاص کھانوں سے رونق تو بڑھ جاتی ہے، تاہم سحری کے لیے جاگنا اور پھر دن بھر کی تھکاوٹ میں نیند کی کمی کا سامنا ضرور رہتا ہے۔
تاہم اچھی بات یہ ہے کہ چند سادہ عادات اپنا کر نیند کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، تاکہ روزے بھی اچھے گزریں، سارا دن تھکاوٹ کا احساس نہ ہو اور موڈ بھی متوازن رہے۔
سب سے اہم بات سونے اور جاگنے کے اوقات کا ایک فکسڈ شیڈول بنانا ہے۔ کوشش کریں کہ ہر رات تقریباً ایک متعین کیے ہوئے وقت پر لیٹیں، اور فجر کے بعد اگر ممکن ہو تو 20 سے 30 منٹ کی ہلکی سی نیند لے لیں۔
فجر کی نماز کے بعد کمرے کی روشنی فوراً بند کر دیں اور پردے کھینچ دیں، تاکہ باہر کی روشنی آنکھوں تک نہ پہنچے اور جسم کی اندرونی گھڑی (circadian rhythm) سمجھ جائے کہ اب سونے کا وقت ہے۔
کمرے کا درجہ حرارت مناسب حد تک ٹھنڈا رکھیں، پنکھا یا اے سی کا استعمال کریں، اور بستر پر لیٹتے ہی گہری سانسیں لینے کی مشق شروع کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: پروٹین اور فائبر سے بھرپور غذائیں بہتر نیند کی ضامن، تحقیق
آنکھیں بند کر کے 4 سیکنڈ سانس اندر، 4 سیکنڈ روک کر 6 سیکنڈ باہر نکالیں۔ یہ سانس کی مشق (بریتھنگ ٹیکنیک) دماغ کو دو تین منٹ میں پرسکون کر دیتی ہے۔
دن میں بھی بہت زیادہ سونے کے بجائے صرف ایک مختصر سا نیپ لیں، تاکہ رات کی نیند خراب نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی سب سے اہم بات یہ ہے کہ سونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ٹی وی سے دور رہیں، کیونکہ ان کی تیز اور نیلی روشنی دماغ کو جاگنے کا سگنل دیتی ہے۔
کمرے میں ہلکی اور نرم روشنی، مثلاً پیلے بلب یا ٹیبل لیمپ کا استعمال، دماغ کو آہستہ آہستہ نیند کے لیے تیار کرتا ہے۔ گہرا اندھیرا بھی نیند کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتا ہے۔
سحری میں ایسی غذا کا انتخاب کریں جو ہلکی اور زود ہضم ہو۔
سحر ہو یا افطار دونوں میں ہی بھاری کھانوں سے دور رہیں کیونکہ اس طرح نہ دن میں تازگی رہتی ہے نہ رات کو سکون سے نیند آتی ہے۔
سونے سے قبل ہلکی چہل قدمی، تازہ ہوا میں سانس لینا اور پھر کسی ہلکی ہربل چائے، مثلاً دار چینی کی چائے کا استعمال جسم اور دماغ دونوں کو رفتہ رفتہ آرام کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ مشروبات نیند آور گولیوں کی طرح نہیں بلکہ قدرتی طور پر سکون بخش اثر رکھتے ہیں اور نیند کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔
ذہنی سکون کے لیے تراویح کے بعد اگر صرف دس منٹ کا وقت نکال کر خاموشی سے ذکر، استغفار یا سانسوں پر توجہ کے ساتھ ہلکا سا مراقبہ کیا جائے تو اس طرح اسٹریس کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
اسی طرح شام کے وقت ہلکی ورزش، اسٹریچنگ یا یوگا کی آسان مشقیں جسم کے عضلات کو ڈھیلا کرتی ہیں اور رات کی نیند کو گہرا بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
ان چند آسان عادات کو اپنایا جائے تو رمضان کی راتیں تھکن اور جھنجھلاہٹ کے بجائے سکون اور تازگی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔