ٹی 20 ورلڈ کپ، بھارت سے غیر ملکی ٹیموں کی وطن واپسی کا معاملہ پیچیدہ ہو گیا

ٹی 20 ورلڈ کپ، بھارت سے غیر ملکی ٹیموں کی وطن واپسی کا معاملہ پیچیدہ ہو گیا

ویسٹ انڈین کوچ ڈیرن سیمی نے سوشل میڈیا پر تاخیر پر مایوسی ظاہر کی

بھارت میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد غیر ملکی ٹیموں کی وطن واپسی کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے اور ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کو اب بھی بھارت سے روانگی کے لیے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دونوں ٹیموں کو ابتدائی طور پر اتوار 8 مارچ کو بھارت سے روانہ ہونا تھا، تاہم سفری انتظامات مکمل نہ ہونے کے باعث ان کی واپسی مؤخر ہوگئی۔

تازہ ہدایات کے مطابق اب ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں منگل 10 مارچ کی علی الصبح کولکتہ سے چارٹر طیارے کے ذریعے جوہانسبرگ روانہ ہوں گی، جہاں سے ویسٹ انڈیز کی ٹیم آگے اینٹیگوا جائے گی۔

اس وقت دونوں ٹیموں کے کھلاڑی کولکتہ میں موجود ہیں اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

ویسٹ انڈیز یکم مارچ کو سپر ایٹ مرحلے میں بھارت سے شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی تھی جبکہ جنوبی افریقہ کا سفر 4 مارچ کو سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ختم ہوا تھا۔

ذرائع کے مطابق ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے لیے جمعرات کو چارٹر پرواز کا انتظام کرنے کی خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم وہ منصوبہ بھی عملی شکل اختیار نہ کرسکا۔

کرکٹ ویسٹ انڈیز کے مطابق حتمی تصدیق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد سامنے آئی جس میں آئی سی سی حکام، ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑیوں کے نمائندے شریک تھے۔

رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث بعض فضائی حدود محدود ہونے سے سفری منصوبے متاثر ہوئے، تاہم تاخیر پر کھلاڑیوں نے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

ویسٹ انڈین کوچ ڈیرن سیمی نے سوشل میڈیا پر تاخیر پر مایوسی ظاہر کی جبکہ جنوبی افریقی کرکٹرز کوئنٹن ڈی کک اور ڈیوڈ ملر بھی انتظامات پر منفی ردعمل دے چکے ہیں۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ کے تین کھلاڑی کیشیو مہاراج، جیسن اسمتھ اور جارج لینڈے ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ اتوار کو ہی نیوزی لینڈ روانہ ہوگئے ہیں جہاں جنوبی افریقہ کی ٹیم 15 مارچ سے کیویز کے خلاف پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل انگلینڈ کی ٹیم ممبئی سے ہفتے کے روز براہ راست لندن روانہ ہو چکی ہے، جبکہ دیگر ٹیموں کو بھارت سے واپسی کے لیے غیر معمولی تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Related posts

ایران کی نئی قیادت کو ماسکو کی حمایت، پیوٹن کی مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارکباد

متحدہ عرب امارات کے صدر اور جرمن چانسلر نے علاقائی ترقی اور فوجی کشیدگی کے مضمرات پر تبادلہ خیال کیا

ایرانی اسکول پر امریکی ٹوماہاک میزائل حملے کی ویڈیو سامنے آ گئی، ماہرین کی تصدیق