امریکی اڈوں پر حملے حقِ دفاع ہیں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
نئے سپریم لیڈر کا انتخاب اسمبلی آف ایکسپرٹس کرے گی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور روس کے درمیان فوجی تعاون جاری رہے گا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے۔
اپنے بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران اور ماسکو کے درمیان فوجی تعلقات کوئی نئی بات نہیں بلکہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کا فوجی تعاون کسی سے پوشیدہ نہیں اور روس کئی اہم شعبوں میں ایران کی مدد کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور روس کے تعلقات مضبوط اور دیرینہ ہیں اور دونوں ممالک خطے اور عالمی سطح پر تعاون کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔
انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگ ایران کی پسند نہیں بلکہ اسے امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مسلط کیا ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق ایران نے اس جنگ کو بلااشتعال، غیر ضروری اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانا ایران کا قانونی حقِ دفاع ہے اور ایران اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے داخلی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے سیاسی ادارے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں کسی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب اسمبلی آف ایکسپرٹس کرے گی اور یہ صرف ایرانی عوام کا اندرونی معاملہ ہے۔
عباس عراقچی نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی قیادت سے متعلق بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے داخلی معاملات میں کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔