مہنگائی سے پریشان عوام؛ شفاعت علی نے حکومت کو نیا راستہ دکھادیا
مہنگائی کے اس دور میں کم آمدنی والے افراد کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے
پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے معروف میزبان اور کامیڈین شفاعت علی نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایک متبادل تجویز پیش کی ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں شفاعت علی نے کہا کہ بڑھتی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، اس لیے حکومت کو دفاتر کے نظام پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پیٹرول کی قیمت 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے تو اس صورتحال میں بہتر ہوگا کہ حکومت عارضی طور پر دفاتر بند کر کے کورونا وبا کے دوران رائج کی گئی ورک فرام ہوم پالیسی کو دوبارہ نافذ کرے، تاکہ لوگوں کو روزانہ سفر کے اخراجات سے کچھ ریلیف مل سکے۔
شفاعت علی کا کہنا تھا کہ ایک شخص جس کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 40 ہزار روپے ہو، وہ موٹر سائیکل کے پیٹرول کے اخراجات بھی بمشکل پورے کر سکتا ہے، مہنگائی کے اس دور میں کم آمدنی والے افراد کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے پیٹرول کی قیمت میں اچانک 55 روپے فی لیٹر اضافے کو سخت فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کا براہِ راست بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ معاشی فیصلے کرتے وقت عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کرے۔
