خواتین کا عالمی دن؛ مساوی حقوق کی جنگ اب بھی جاری ہے

خواتین کا عالمی دن؛ مساوی حقوق کیلئے جنگ اب بھی جاری ہے

خواتین کا عالمی دن ایک مزدور تحریک کے طور پر شروع ہوا تھا اور اب یہ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ ایک سالانہ دن ہے

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس دن منانے کا مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ اور مساوات کو یقینی بنانا ہے۔

واضح رہے کہ خواتین کا عالمی دن ایک مزدور تحریک کے طور پر شروع ہوا تھا اور اب یہ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ ایک سالانہ دن ہے۔

اس دن کا آغاز 1908 میں نیویارک شہر سے ہوا جب 15000 خواتین نے کم گھنٹے کام، بہتر تنخواہوں اور ووٹ کے حق کے لیے مارچ کیا۔ اس سال کے بعد سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے پہلا قومی یومِ نسواں منایا۔تاہم اس دن کو باقاعدہ طور پر 1975 میں تسلیم کیا گیا جب اقوام متحدہ نے بھی اسے منانا شروع کیا۔

خیال رہے کہ ہر سال مارچ کی آٹھ تاریخ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتاہے جس میں اس بات کا عزم کیا جاتاہے کہ خواتین کو حاصل آزادیوں کا تحفظ کرتے ہوئے ان کی مزید آزادی اورحقوق کے حصول کے جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔

آج خواتین کا عالمی دن معاشرے، سیاست اور معاشی میدان میں خواتین کی ترقی کو منانے کا دن بن گیا ہے جبکہ اس کے پیچھے کار فرما مقصد عورتوں اور مردوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں بیداری پھیلانا ہے، جو اب بھی جاری ہے۔

خواتین کے اس عالمی دن کے موقع پر آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں اہم تقریبات اور سیمینار ز کاانعقاد کیا جائیگا جن میں مقررین خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم امور پر روشنی ڈالیں گے۔

Related posts

فرانسوفونی کی پارلیمانی اسمبلی نے اپنے علاقے کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کا مقابلہ کرنے میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا

متحدہ عرب امارات کے صدر نے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ہسپانوی وزیر اعظم کی فون کال وصول کی

متحدہ عرب امارات کے صدر اور محمد بن راشد کا دبئی میں قومی امور پر تبادلہ خیال