آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان ٹیکس ہدف اور مالیاتی امور پر مشاورت جاری
رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں ایف بی آر کو 428 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہا
وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان رواں مالی سال کے ٹیکس ہدف میں ممکنہ کمی اور دیگر مالیاتی معاملات پر مذاکرات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے سالانہ ٹیکس ہدف کو 13 ہزار 979 ارب روپے سے کم کرکے تقریباً 13 ہزار 400 سے 13 ہزار 500 ارب روپے تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں ایف بی آر کو 428 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہا۔ جولائی تا دسمبر پیٹرولیم لیوی کے ذریعے 823 ارب روپے جمع کیے گئے جبکہ پورے سال کے لیے اس کا ہدف 1468 ارب روپے مقرر ہے۔
مذاکرات میں شرح نمو پر بھی اختلافات برقرار ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق معیشت تقریباً 4 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے اس کا تخمینہ تقریباً 3.2 فیصد لگایا ہے۔
مذاکرات کے دوران توانائی کے شعبے کے مسائل، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات اور بلوں کی عدم وصولی، کیپسٹی پیمنٹس اور سبسڈی کے نظام پر بھی تفصیلی غور کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے بلا امتیاز سبسڈی دینے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا اور ہدایت دی کہ غریب ترین طبقے کو امداد صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے دی جائے۔
وفاق اور صوبوں نے آئی ایم ایف کو مالیاتی فریم ورک، بجٹ سرپلس اور قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔
بریفنگ کے مطابق گیس سیکٹر کے گردشی قرضے تقریباً 1700 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، اور حکومت نے آئندہ چھ برسوں میں اسے ختم کرنے کا منصوبہ آئی ایم ایف کو پیش کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گیس سیکٹر کے قرضے کا بوجھ پٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والوں پر ڈالنے کی تجویز زیر غور ہے، اور حکومت پٹرولیم مصنوعات پر مزید چار روپے تک لیوی عائد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
تاہم حکومتی موقف کے مطابق گردشی قرضہ کم کرنے کے لیے گیس کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، اور پٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجاویز کا جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے۔