بچوں کی کتنی تعداد ماؤں کی عمرگھٹا سکتی ہے؟ تحقیق میں اہم انکشاف
ایسی خواتین جنہوں نے بہت زیادہ بچوں کو جنم دیا یا جو ماں نہ بن سکی ان میں زندگی کا دورانیہ کم ہونے کا خطرہ زیادہ تھا
فن لینڈ میں کی جانے والی ایک انتہائی منفرد تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کی تعداد خواتین کی عمر سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔
فن لینڈ کی یونیورسٹی آف ہیلسیکی کی اس نئی تحقیق کے مطابق ایسی خواتین جنہوں نے بہت زیادہ بچوں کو جنم دیا یا جو ماں نہ بن سکی ان میں حیاتیاتی بڑھاپا کے عمل میں تیزی اور زندگی کا دورانیہ کم ہونے کا خطرہ زیادہ تھا۔
اس نئی تحقیق میں محققین نے بچوں کی پیدائش کی مکمل تاریخ کا تفصیل سے جائزہ لیا اور اس کے لیے انہوں نے 14,836 خواتین کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جو سب جڑواں بہنیں تھیں، تاکہ جینیاتی اثرات کم سے کم ہوں، جبکہ ان میں سے 1,054 خواتین میں حیاتیاتی بڑھاپے کے نشانات بھی جانچے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق وہ خواتین جن کے کوئی بچے نہیں تھے یا جن کے بہت زیادہ بچے تھے اوسطاً تقریباً 6.8 ان میں حیاتیاتی بڑھاپے اور موت کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔
تحقیق میں سب سے بہتر نتائج ان خواتین میں دیکھے گئے جنہوں نے 24 سے 38 سال کی عمر کے درمیان 2 سے 3 بچوں کو جنم دیا یعنی ان میں حیاتیاتی عمر کے بڑھنے کی رفتار دیگر کی نسبت کم تھی۔
واضح رہے کہ جس شخص کی حیاتیاتی عمر اس کی اصل عمر سے زیادہ ہو، اس میں موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ نتائج بتاتے ہیں کہ زندگی کے اہم فیصلے جسم پر ایسے حیاتیاتی اثرات چھوڑ سکتے ہیں جو بڑھاپے سے بہت پہلے بھی ناپے جا سکتے ہیں۔
اس ضمن میں ایک نظریہ جسے ڈسپوزیبل سوما تھیوری کہا جاتا ہے بتاتا ہے کہ اگر جسم کی زیادہ توانائی افزائشِ نسل پر لگ جائے تو جسم کی مرمت اور صحت کے لیے توانائی کم رہ جاتی ہے۔
تاہم سائنسدانوں کے مطابق یہ تحقیق براہِ راست عمر کم ہونے کی وجہ تو ثابت نہیں کرتی بلکہ صرف ایک تعلق ظاہر کرتی ہے۔
اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ کسی خاتون کو صرف اس تحقیق کی بنیاد پر اپنے بچوں کے بارے میں فیصلے نہیں بدلنے چاہئیں۔