بھارتی طیاروں کی مسلسل تباہی کی وجہ بھارت میں بننے والے انجن ہیں، بی بی سی
گزشتہ 15 برس میں ایک درجن سے زائد ایس یو-30 طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں
بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے مسلسل حادثات کے پیچھے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے انجنوں کو اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے.
برطانوی نشریاتی ادارےبی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ کا ایک لڑاکا طیارہ سخوئی ایس یو-30 جمعرات کی رات کاربی اینگلونگ میں گر کر تباہ ہوگیا۔
حادثے میں اسکواڈرن لیڈر انوج اور فلائٹ لیفٹیننٹ پوریش ڈیراگکار ہلاک ہوگئے جس کی تصدیق بھارتی فضائیہ نے بھی کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سخوئی ایس یو-30 کو بھارتی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، یہ طیارہ روسی کمپنی سخوئی کے ڈیزائن پر مبنی ہے جبکہ اس کی تیاری بھارت میں ہندوستان ایروناٹیکس لمیٹڈ کے بنگلور اور ناسک پلانٹس میں کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات؛ توانائی بحران سے بھارتی معیشت کو دھچکا
بھارتی دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی کے مطابق بھارتی فضائیہ کے پاس ماضی میں ایس یو-30 طیاروں کی تعداد 272 تھی جو مختلف حادثات کے بعد کم ہو کر تقریباً 260 رہ گئی ہے۔
گزشتہ 15 برس میں ایک درجن سے زائد ایس یو-30 طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں طیاروں کا کریش ہونا انتہائی تشویشناک معاملہ ہے جبکہ بھارتی فضائیہ اکثر ایسے حادثات کی تحقیقاتی رپورٹس خفیہ رکھتی ہے۔
صنعتی ذرائع کے مطابق ایس یو-30 طیاروں کے انجن میں تکنیکی خرابیوں کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں اور ماضی میں بھی اس مسئلے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 50 برس میں بھارتی فضائیہ کے تقریباً 470 مگ 21 طیارے کریش ہو چکے ہیں جبکہ ان کے انجنوں میں موجود خامیوں کو بھی کبھی باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارتی فضائیہ کے پاس اس وقت تقریباً 29 جنگی اسکواڈرن فعال ہیں جبکہ ضرورت کم از کم 45 اسکواڈرن کی ہے۔ مزید یہ کہ دیسی ساخت کے تیجاس طیاروں کی محدود تعداد اور تکنیکی مسائل بھی فضائیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔