سری لنکا کے قریب ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملہ؛ بھارت میں سیاسی ہلچل
ایران امریکا کشیدگی اب بھارت کے دروازے تک آن پہنچی
سری لنکا کے قریب ایرانی بحریہ کے جنگی جہاز پر امریکی حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ بھارت میں اس واقعے پر سیاسی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی جنگی جہاز کو امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا۔ مذکورہ جہاز بھارت میں جنگی مشقیں مکمل کرنے کے بعد ایران واپس جا رہا تھا کہ سری لنکا کے قریب اسے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
سری لنکن حکام کے مطابق ایرانی بحری جہاز آئرس ڈینا حملے کے بعد ڈوب گیا۔ وزیر خارجہ کے مطابق امدادی کارروائی فوری طور پر شروع کی گئی اور اب تک 30 زخمی اہلکاروں کو نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔
سری لنکا کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں 80 افراد ہلاک ہوئے۔
بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رہنما پون کھیڑا نے سوال اٹھایا کہ آیا بھارت نے اپنے خطے میں سفارتی اثر و رسوخ کھو دیا ہے یا خاموشی اختیار کر لی ہے۔
معروف بھارتی صحافی راجدیپ سردیسائی نے کہا ہے کہ ایران کی جنگ بھارت سے ایک قدم مزید قریب آگئی ہے۔
دوسری جانب بھارتی صحافی سوہاسنی حیدر کا کہنا تھا کہ ایرانی بحری جہاز کو جنگی مشقوں کے لیے بھارتی بحریہ نے مدعو کیا تھا اور وہ اس معاملے پر بھارتی وزارت خارجہ کے مؤقف کی منتظر ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ بھارت، ایران اور امریکا کے تعلقات کے لیے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔