سپریم لیڈر کی شہادت پر تہران کا سخت ردعمل، جواب صرف امریکی اہداف کو دیا جائے گا

سپریم لیڈر کی شہادت پر تہران کا سخت ردعمل، جواب صرف امریکی اہداف کو دیا جائے گا

کونسل ریاستی امور کو مربوط انداز میں آگے بڑھائے گی

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کو اپنے دفاع میں کسی قسم کی پابندی یا حد قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر کا قتل سنگین فعل اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کا جواب دیا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے اعلان کیا کہ ملک میں ایک آئینی عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے اور معاملات کو منظم انداز میں چلانے کے لیے آج عبوری کونسل قائم کر دی گئی ہے۔

ان کے مطابق یہ کونسل ریاستی امور کو مربوط انداز میں آگے بڑھائے گی اور موجودہ صورتحال میں انتظامی تسلسل کو یقینی بنائے گی۔

“جواب صرف امریکی اہداف کو”

عباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ایران کی جوابی کارروائیوں کا رخ صرف امریکی اہداف کی جانب ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے برادر ممالک کو نشانہ نہیں بنا رہا اور نہ ہی خلیج فارس کے دوسری جانب موجود ممالک سے کوئی محاذ آرائی چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور مثبت تعلقات ہیں اور ہم ان تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ایران جو کچھ کر رہا ہے وہ اپنے دفاع اور امریکی جارحیت کے خلاف ردعمل ہے۔

وزیرِ خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے۔

Related posts

ایران سے جھڑپوں میں 3 امریکی اہلکار ہلاک، 5 شدید زخمی

وزارت دفاع کا السلام فوجی اڈے کو نشانہ بنانے پر ردعمل – متحدہ عرب امارات

پاکستان ہاکی ٹیم نے چین کو 5-4 سے زیر کر کے کوالیفائر میں فتح کا جھنڈا گاڑ دیا