آیت اللہ خامنہ ای کو کیسے شہید کیا گیا؟ نیویارک ٹائمز کا انکشاف
تہران کے وقت کے مطابق صبح تقریباً 9:40 پر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایاگیا
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کیسے سی آئی اے کی مدد سے آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوا۔
امریکی اخبار کے مطابق سی آئی اے کئی ماہ سے آیت اللہ خامنہ ای کی جاسوسی کر رہی تھی، سی آئی اے کو انٹیلیجنس ملی کہ ہفتے کی صبح آیت اللہ خامنہ ای اعلیٰ ایرانی عہدیداران کیساتھ اہم میٹنگ کرنے جا رہے ہیں۔
سی آئی نے اپنی انٹیلیجنس جس میں خامنہ ای کی لوکیشن کے بارے میں اعلیٰ درستگی پائی جاتی تھی، اسرائیل سے شیئر کی۔
پہلے اسرائیل اور امریکا کا ارادہ رات کے وقت حملے کا تھا لیکن ہفتے کی صبح میٹنگ کی اطلاع ملنے پر دونوں نے دن کے وقت حملے کا وقت ایڈجسٹ کر لیا۔ ایران بھی صبح کے وقت حملے کا نہیں سوچ رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق سپریم لیڈر کی صدارت میں صبح 9 بجے محمد پاکپور ( کمانڈر انچیف پاسدارن انقلاب )عزیز ناصر زادہ (وزیر دفاع) ایڈمرل علی شمخانی (سربراہ ملٹری کونسل) سید مجید موسوی ( کمانڈر پاسداران انقلاب اسلامی فضائی فورس) اور محمد شیرازی (نائب انٹیلی جنس وزیر) کااجلاس طے تھا۔
انٹیلیجنس رپورٹس ملنے پر ہفتے کی صبح 6 بجے چند جنگی جہاز تل ابیب سے نکلے جو طویل فاصلے تک مار کرنے والے انتہائی جدید اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں سے لیس تھے ۔
طیاروں کے اُڑان بھرنے کے دو گھنٹے اور پانچ منٹ بعد، یعنی تہران کے وقت کے مطابق صبح تقریباً 9:40 پر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایاگیا۔
حملے کے وقت ایرانی قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کمپاؤنڈ کی ایک عمارت میں موجود تھے، جبکہ سپریم لیڈر خامنہ ای ساتھ ہی دوسری عمارت میں موجود تھے۔ حملے میں آیت اللہ خامنہ ای موقع پر شہید ہو گئے ۔
وہاں موجود ایرانی دفاعی نظام کے عہدیداران علی شمخانی، محمد پاکپور، عامر ناصر زادہ بھی شہید ہو گئے۔
امریکا نے خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر ایرانی ملٹری کمانڈرز اور عہدیداروں کی لوکیشنز پربھی حملے کیے لیکن وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔
خوفناک بات یہ ہےکہ سی آئی اے کو اسی سورس نے آیت اللہ کی لوکیشن بتائی جسکی ریکی پراس نے جون میں ایرانی شخصیات کونشانہ بنایاتھا۔ وہ جاسوس چھ ماہ بعد بھی ایرانی حکومت کا حصہ ہے لیکن ایرانی انٹیلجنس اسکوپکڑنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ واقعہ امریکی بدمعاشی کیساتھ ایرانی انٹیلیجنس ناکامی کابھی منہ بولتا ثبوت ہے۔