فریال گوہر اور جمال شاہ نے 30 سال بعد علیحدگی کی وجہ بیان کردی
میں کبھی یہ نہیں سمجھتی کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی ملکیت ہوتے ہیں
پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ فریال گوہر اور نامور فنکار جمال شاہ نے طلاق کے تین دہائیوں بعد پہلی بار اپنی علیحدگی کی اصل وجوہات پر کھل کر گفتگو کی ہے۔
دونوں حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کی رمضان ٹرانسمیشن میں بطور مہمان شریک ہوئے، جہاں انہوں نے ماضی کے حساس معاملات پر نہایت سنجیدگی اور باہمی احترام کے ساتھ اظہارِ خیال کیا۔
ماضی میں اس جوڑی کو شوبز کی مثالی جوڑی سمجھا جاتا تھا، تاہم 1992ء میں دونوں کی راہیں جدا ہوگئیں جبکہ فریال گوہر 1995ء میں پاکستان سے بیرونِ ملک منتقل ہوگئیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فریال گوہر نے بتایا کہ ان کی ازدواجی زندگی میں اختلافات کا آغاز 1987ء کے قریب ہو چکا تھا۔ جمال شاہ اپنی ذاتی آزادی کو بہت اہمیت دیتے تھے اور خود کو شادی کے بندھن میں محدود محسوس کرتے تھے۔
فریال گوہر نے کہا کہ میں کبھی یہ نہیں سمجھتی کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی ملکیت ہوتے ہیں اور جب کسی ایک فریق کا دل رشتے میں نہ رہے تو اسے زبردستی برقرار رکھنا مناسب نہیں۔ اسی سوچ کے تحت میں نے باہمی احترام کے ساتھ علیحدگی اختیار کی۔
اسی دوران جمال شاہ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ خود کو شادی کے لیے موزوں نہیں سمجھتے تھے اور اپنی فطری آزادی کو ترجیح دیتے تھے۔
انہوں نے ایک ایسے واقعے کا ذکر بھی کیا جو تعلق کے خاتمے کی آخری کڑی ثابت ہوا۔ ان کے مطابق وہ اسلام آباد میں ایک خاتون کے ساتھ مل کر ایک آرٹ انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ فریال گوہر نے مجھے اس شراکت سے گریز کا مشورہ دیا تھا جبکہ متعلقہ خاتون کے خاندان کی جانب سے بھی احتیاط کا کہا گیا تھا، تاہم میں نے اپنی مرضی سے فیصلہ کیا۔
بعد ازاں وہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا اور اسی دوران دونوں کے درمیان موجود اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے، جس کے بعد باہمی رضامندی سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا گیا۔
دونوں فنکاروں نے اس بات پر زور دیا کہ علیحدگی کے باوجود ہم نے کبھی دانستہ طور پر ایک دوسرے سے تعلق منقطع نہیں کیا اور آج بھی ایک دوسرے کے لیے احترام کے جذبات رکھتے ہیں۔