کینیڈا میں ایک اور سکھ رہنما کو قتل کی دھمکی، بھارت کی عالمی دہشت گردی بے نقاب
کینیڈین حکام کے بھارت پر غیر ملکی مداخلت، غلط معلومات پھیلانے اور بیرونی دباؤ میں ملوث ہونے کے الزامات
کینیڈا میں ایک اور سکھ رہنما کو قتل کی دھمکی ملنے کے بعد بھارت کی عالمی دہشت گردی بے نقاب ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کینیڈا کی پولیس نے سکھ تنظیم کے سربراہ مونندر سنگھ اور ان کے اہل خانہ کو سنگین خطرے سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔ عالمی نشریاتی ادارے گلوبل نیوز کے مطابق خفیہ معلومات کی بنیاد پر یہ سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
اسی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2022 میں بھی مونندر سنگھ کو مقتول سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نِجار کے ساتھ قتل کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ نِجار کو اس سے قبل ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
گلوبل نیوز کے مطابق کینیڈین حکام نے بھارت پر غیر ملکی مداخلت، غلط معلومات پھیلانے اور بیرونی دباؤ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
مزید پڑھیں: کینیڈا کا بڑا فیصلہ، چین سے رعایتی درآمد پر الیکٹرک گاڑیوں کی منظوری دے دی
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے بعض عناصر پر جرائم پیشہ گروہ بشنوئی گینگ کے ساتھ مبینہ رابطوں کے دعوے کیے گئے ہیں۔
مزید برآں، رپورٹ کے مطابق امریکی تحقیقاتی ادارے وفاقی تحقیقاتی ادارہ نے بھی ایک کیس میں بھارت کے ایک اہلکار کی مبینہ سازش کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کا تعلق سکھ کارکن گُرپنت ونت سنگھ پنوں سے بتایا گیا۔
یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت اور کینیڈا کے درمیان سفارتی کشیدگی پہلے ہی موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق ان معاملات کی شفاف تحقیقات اور باہمی سفارتی رابطہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔