اگر مگر کی کہانی نے پھر پاکستانی اُمیدوں کو زندہ کر دیا
اب ہر گیند، ہر رن اور ہر نتیجہ پاکستان کے خواب کی تقدیر بدل سکتا ہے
انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز شکست کے بعد پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کا راستہ اگرچہ مشکل ہوگیا ہے، تاہم قومی ٹیم کے لیے امید کی کرن اب بھی موجود ہے مگر یہ امید صرف اپنی کارکردگی نہیں بلکہ دیگر ٹیموں کے نتائج سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
پاکستان کے لیے پہلا امتحان
سب سے پہلے پاکستان کو اپنے آخری میچ میں سری لنکا کو اچھے رن ریٹ کے ساتھ لازمی شکست دینا ہوگی۔ یہ کامیابی سیمی فائنل کی دوڑ میں زندہ رہنے کے لیے بنیادی شرط ہے۔
نظریں نیوزی لینڈ کے نتائج پر
پاکستان کی قسمت کا دارومدار نیوزی لینڈ کی کارکردگی پر بھی ہوگا۔ سیمی فائنل تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ نیوزی لینڈ اپنے دونوں میچز میں شکست کھائے یعنی انگلینڈ اور سری لنکا دونوں سے ہار جائے۔
اس صورتحال میں پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان 3 پوائنٹس کے ساتھ سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتا ہے، جبکہ نیوزی لینڈ بغیر پوائنٹس کے رہ جائے گا اور سری لنکا 2 پوائنٹس پر محدود رہے گا۔
رن ریٹ کا ممکنہ ڈراما
ایک اور ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ انگلینڈ، نیوزی لینڈ کو شکست دے دے اور نیوزی لینڈ سری لنکا کو ہرا دے۔ اس صورت میں پاکستان اور نیوزی لینڈ دونوں کے 3، 3 پوائنٹس ہوجائیں گے اور فیصلہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر ہوگا، جو ٹورنامنٹ میں سنسنی خیز مقابلے کو جنم دے سکتا ہے۔
یوں قومی ٹیم کے لیے سیمی فائنل کا دروازہ مکمل بند نہیں ہوا، مگر اب ہر گیند، ہر رن اور ہر نتیجہ پاکستان کے خواب کی تقدیر بدل سکتا ہے۔