مشرق وسطیٰ میں تعینات طیارہ بردار بحری جہاز جس پر امریکا کو ناز ہے
طیارہ بردار جہاز کی سب سے بڑی صلاحیت فضائی برتری قائم کرنا ہے
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے ماحول میں امریکی بحریہ کا ایٹمی طاقت سے چلنے والا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اپنے اسٹرائیک گروپ کے ساتھ 26 جنوری 2026 کو مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں پہنچ گیا، جسے خطے میں طاقت کے توازن اور امریکی عسکری موجودگی میں بڑے اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ طیارہ بردار جہاز تباہ کن صلاحیتوں کے حامل ڈسٹرائرز جنگی بحری جہازوں یو ایس ایس سپرونس، یو ایس ایس مائیکل مرفی، یو ایس ایس فرینک، اور یو ایس ایس پیٹرسن جونیئر کے ہمراہ تعینات ہے، جو مجموعی طور پر ایک طاقتور کیریئر اسٹرائیک گروپ تشکیل دیتے ہیں۔
1 ہزار فٹ سے زائد لمبائی اور 1 لاکھ ٹن سے زیادہ وزن رکھنے والا یہ جہاز نِمٹز کلاس کا پانچواں طیارہ بردار ہے، جو امریکی بحریہ کی عالمی برتری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جہاز 90 تک طیارے اور ہیلی کاپٹر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اس پر 5600 سے زائد اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔
کیریئر اسٹرائیک گروپ دراصل جہازوں، آبدوزوں اور دفاعی نظام پر مشتمل ایسا بیڑا ہوتا ہے جو کسی بھی خطے میں فوری عسکری برتری قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اس تعیناتی کا مقصد کشیدگی کے دوران امریکا کے لیے عسکری آپشنز کو مضبوط بنانا اور حریف قوتوں کو پیغام دینا ہے۔
طیارہ بردار جہاز کی سب سے بڑی صلاحیت فضائی برتری قائم کرنا ہے۔ اس کے ڈیک سے جدید جنگی طیارے F/A-18 Hornet اور F-35 Lightning II لانچ ہو کر دشمن طیاروں کا مقابلہ، میزائل دفاع، زمینی اہداف پر حملے اور نگرانی کے مشنز انجام دے سکتے ہیں۔
اسی طرح E-2 Hawkeye طیارے 360 درجے نگرانی فراہم کرتے ہیں، جس سے خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن ہوتی ہے۔
دو ایٹمی ری ایکٹرز اور چار ٹربائنز سے چلنے والا یہ جہاز 30 ناٹس سے زائد رفتار حاصل کرسکتا ہے اور اس کی رینج عملی طور پر لا محدود ہے، جبکہ جدید ریڈار، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز اور میزائل دفاعی نظام اسے “فلوٹنگ فورٹریس” بناتے ہیں۔
1989 میں کمیشن ہونے کے بعد سے یہ طیارہ بردار جہاز جنگی کارروائیوں، انسانی امداد اور ڈیٹرنس مشنز میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ 2013 تا 2017 ری فیولنگ اور کمپلیکس اوورہال کے بعد اسے جدید اسٹیلتھ طیاروں کے لیے بھی اپ گریڈ کیا گیا۔