ایران کی جنگ سے نمٹنے کے لیے تیاریاں، اعلیٰ سطح پر اختیارات منتقلی کا انکشاف
اگر اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچتا ہے تو عبوری انتظام میں علی لاریجانی سرفہرست ہوں گے
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ممکنہ جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی تیاریوں میں مصروف ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اپنے زیادہ تر اختیارات نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کو سونپ دیے ہیں اور چار سطحوں پر مشتمل ممکنہ جانشین بھی مقرر کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں نظام کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
اخبار کے مطابق اگر اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچتا ہے تو عبوری انتظام میں علی لاریجانی سرفہرست ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خامنہ ای کو علی لاریجانی پر مکمل اعتماد ہے اور وہ امریکا سے ممکنہ مذاکرات کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی اہم اختیارات لاریجانی کو منتقل کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کی کوشش کے دوران بھی لاریجانی سے اجازت طلب کی گئی۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی میں شدت؛ خطے میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عبوری انتظام کے لیے محمد باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی کے نام بھی زیر غور ہیں۔ جنگ کی صورت میں اسپیکر کو مسلح افواج کی کمان سونپنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں میزائل نصب کر دیے گئے ہیں اور دفاعی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
ایران خطے میں امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے، صدر مسعود پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔
صدر نے کہا کہ حالیہ مذاکرات میں اہم تجاویز پر گفتگو ہوئی اور کچھ مثبت اشارے بھی موصول ہوئے ہیں، تاہم ایران تمام پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران امریکی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
