صدر ٹرمپ نے بھارت امریکا تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا، بھارت پر یکطرفہ معاشی دباؤ واضح

صدر ٹرمپ نے بھارت امریکا تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا، بھارت پر یکطرفہ معاشی دباؤ واضح

تاریخی قرار دیا گیا تجارتی معاہدہ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد بھارتی ناکامی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے بھارت اور امریکا کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کے دعوے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس معاہدے میں فائدہ صرف امریکہ کو حاصل ہو رہا ہے اور بھارت ہی بھاری ٹیرف ادا کر رہا ہے۔

تاریخی قرار دیا گیا تجارتی معاہدہ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد بھارتی ناکامی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا کہ کچھ بھی نہیں بدلا وہ (بھارت) ٹیرف دے رہے ہیں، ہم نہیں دے رہے یہ مکمل الٹ ہے، تجارتی معاہدے میں فائدہ صرف امریکا کو حاصل ہوگا اور بھارت ہی بھاری ٹیرف ادا کرے گا۔

واضح رہے کہ 2 فروری 2026 کو صدر ٹرمپ نے مودی کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کیا تھا، تاہم صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان ان حلقوں کے لیے کاری ضرب ہے جو اس معاہدے پر جشن منا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: چین سے تجارتی معاہدہ؛ ڈونلڈ ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی

اس سے پہلے بھارت کے لیے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی میں سخت بیانات معاشی دباؤ مشروط رعایت  کے دعوے شامل رہے۔

مئی 2025 میں صدر ٹرمپ نے  خبردار کیا تھا کہ آئی فونز امریکا میں تیار ہوں گے ورنہ 25 فیصد ٹیرف بھارت پر لگے گا۔

جولائی 2025 کو بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا اور بھارتی تجارتی رکاوٹیں دنیا میں سب سے بلند قرار پائیں۔

 اگست 2025 کو روسی تیل کی خریداری پر مزید 25 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا اور  بھارت کو dead economy قرار دیا گیا۔

ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کے  بھارتی سفارتی بیانیے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ماہرین نے مزید کہا کہ اگر معاہدے کے بعد بھی بھارت ہی مالی قیمت ادا کر رہا ہے تو اسے کامیابی کہنا خود فریبی کے مترادف ہے، بھارت کا یہ تجارتی منصوبہ شراکت داری نہیں بلکہ معاشی دباؤ کی بھارتی سفارت کاری ہے۔

Related posts

رمضان سے پہلے ساڑھی، اب دوپٹا؟ جویریہ سعود سے لائیو پروگرام میں سخت سوال

سونا عوام کی پہنچ سے مزید دور؛ قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ

900 چوہے کھا کر بلی حج کو چلی؟ صارفین کی تنقید پر سامعہ حجاب کا کرارا جواب