جنوبی کوریا کے سابق صدر کو مارشل لگانے کی کوشش مہنگی پڑ گئی
واضح رہے کہ 3 دسمبر 2024 کو یُون نے ٹی وی پر اچانک مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا
جنوبی کوریا کی عدالت نے سابق صدر یون سک یول کو ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش اور بغاوت کی منصوبہ بندی کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی۔
سیول کی عدالت کے مطابق سابق صدر نے 3 دسمبر 2024 کو آئین کو سبوتاژ کرتے ہوئے فوجی دستوں کو قومی اسمبلی کا محاصرہ کرنے اور سیاستدانوں کی گرفتاری کا حکم دیا۔
عدالت کے جج جی گوی یون نے فیصلے میں کہا کہ یُون کے اقدامات نے جنوبی کوریا کی جمہوریت کو شدید نقصان پہنچایا، اس لیے سخت سزا ضروری تھی۔ استغاثہ نے مقدمے میں سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا، تاہم عدالت نے عمر قید کا حکم سنایا۔
سزا سنائے جانے کے موقع پر عدالت کے باہر سابق صدر کے حامیوں اور مخالفین کی بڑی تعداد جمع تھی۔ حامیوں نے یون کے حق میں نعرے لگائے جبکہ مخالف مظاہرین سزائے موت کا مطالبہ کرتے رہے، جس سے ملک میں شدید سیاسی تقسیم واضح ہو گئی۔
عدالتی فیصلے کے دوران یُون نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، جبکہ ان کے وکلا نے فیصلے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جج پر پہلے سے تیار اسکرپٹ کے مطابق فیصلہ دینے کا الزام لگایا۔
واضح رہے کہ 3 دسمبر 2024 کو یُون نے ٹی وی پر اچانک مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ اقدام شمالی کوریا کے حامی “ریاست مخالف” عناصر سے نمٹنے کے لیے ہے۔
تاہم بعد ازاں واضح ہوا کہ انہیں اندرونی سیاسی دباؤ، اپوزیشن کی پارلیمانی اکثریت اور اہلیہ کم کیون ہی سے متعلق کرپشن الزامات کا سامنا تھا۔
قانون سازوں نے اسمبلی پہنچ کر مارشل لا کے حکم کو چند گھنٹوں میں ختم کر دیا تھا۔ اب اگر کسی بھی فریق نے اپیل کی تو مقدمہ سپریم کورٹ جائے گا اور حتمی فیصلہ آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔