مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں تیزی کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے امکانات پر عالمی توجہ مرکوز ہوگئی ہے جبکہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک ایران کے خلاف حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم فوجی تیاری اس سطح تک پہنچ چکی ہے کہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی ممکن ہو سکتی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سفارتی مذاکرات کے ساتھ ساتھ عسکری آپشن بھی کھلا رکھا گیا ہے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں پر دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے خطے میں اپنی موجودگی بڑھاتے ہوئے اضافی لڑاکا طیارے، فضائی ایندھن بردار جہاز، میزائل دفاعی نظام اور بحری بیڑے تعینات کیے ہیں۔ اس تعیناتی کی نگرانی پینٹاگون اور یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: نیتن یاہو کا ایران کا جوہری و میزائل پروگرام محدود کرنے کا مطالبہ
اس کے علاوہ طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی خطے میں پہنچ رہے ہیں تاکہ امریکی مفادات اور اتحادیوں کا دفاع یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب اسرائیل بھی ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو علاقائی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت اقدامات کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی میں اسرائیل امریکی اتحادی کے طور پر شامل ہو سکتا ہے۔
ادھر سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں۔ حالیہ بالواسطہ مذاکرات جنیوا میں ہوئے جہاں ایران نے مذاکراتی حل کیلئے مزید وقت مانگا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے معاملے پر۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا نے ایران کے جوہری یا فوجی اہداف، خصوصاً اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کور سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا تو خطے میں بڑے پیمانے پر ردعمل آ سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل یا خطے میں موجود امریکی افواج پر میزائل حملوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہر امورِ ایران ولی نصر جو جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ سفارتکاری امریکا کو تیاری کا وقت تو دیتی ہے مگر ایران کو بھی جوابی حکمت عملی بنانے کا موقع ملتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی فوجی کارروائی کے اخراجات اور خطرات کا محتاط جائزہ ضروری ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد ایران اور مغربی ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے تھے۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کی اولین ترجیح تنازع کا سفارتی حل ہے، تاہم صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کیلئے ہر آپشن استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔