اے آئی سمٹ؛ بھارتیوں کی چالاکی پکڑی گئی، چینی روبوٹک کتے کو اپنا قرار دے دیا

اے آئی سمٹ؛ بھارتیوں کی چالاکی پکڑی گئی، چینی روبوٹک کتے کو اپنا قرار دے دیا

مذکورہ روبوٹ دراصل چین کی ایک کمپنی کی تیار کردہ ’’گو ٹو‘‘ ماڈل ہے۔

اے آئی سمٹ کے دوران چینی روبوٹک کتے کو اپنی ایجاد قرار دینے پر بھارتی یونیورسٹی کو تنقید کا سامنا ہے۔

دہلی میں جاری اے آئی سمٹ کانفرنس کے دوران ایک بھارتی یونیورسٹی کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب اس کی ایک استاد نے چینی ساختہ روبوٹک کتے کو جامعہ کی اپنی ایجاد قرار دے دیا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گالگوٹیا یونیورسٹی سے وابستہ ایک پروفیسر نے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ’’اورین‘‘ نامی روبوٹ جامعہ کے مرکزِ میں تیار کیا گیا ہے۔ ان کا بیان منظرِ عام پر آتے ہی ویڈیو سماجی رابطے پر تیزی سے پھیل گئی۔

بعد ازاں صارفین نے نشاندہی کی کہ مذکورہ روبوٹ دراصل چین کی ایک کمپنی کی تیار کردہ ’’گو ٹو‘‘ ماڈل ہے جو مارکیٹ میں تقریباً دو لاکھ بھارتی روپے میں دستیاب ہے۔ اس انکشاف کے بعد یونیورسٹی کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

یونیورسٹی کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا کہ اس نے روبوٹ تیار کرنے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی پروگرامنگ سکھانے کے لیے عالمی سطح پر دستیاب آلات اور وسائل استعمال کیے جارہے ہیں۔

متعلقہ استاد نیہا سنگھ نے بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بات کو درست طور پر نہیں سمجھاگیا، تاہم سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے جامعہ پر بددیانتی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تنازع کے بعد کانفرنس انتظامیہ نے یونیورسٹی کو اپنا اسٹال خالی کرنے کا کہا تاہم یونیورسٹی کے عملے کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں کوئی باضابطہ ہدایت موصول نہیں ہوئی لیکن کچھ گھنٹوں بعد ہی اسٹال کی بجلی منقطع کردی گئی ہے۔

Related posts

وزیرستان کی ننھی فاسٹ بولر نے انٹرنیٹ ہلا دیا، جاوید آفریدی نے فوراً اپنی لیگ میں شامل کر لیا

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری، اے ڈی بی سے براہِ راست مذاکرات کی منظوری

ہمارا فوکس ورلڈکپ جیتنے پر ہے، شاداب خان پرعزم