پابندیاں ہار گئیں، ایمان جیت گیا: مسجدِ اقصیٰ میں پہلی تراویح کا روح پرور منظر
عشاء اور تراویح کی نماز کی امامت امام و خطیب شیخ یوسف ابو سنینہ نے کروائی
غزہ: رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مسجد اقصیٰ میں پہلی تراویح کے موقع پر اسرائیلی پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود دسیوں ہزار فلسطینی مسلمان عبادت کے لیے قبلۂ اول پہنچ گئے۔
رپورٹس کے مطابق چاند نظر آنے کے بعد جیسے ہی رمضان المبارک کے آغاز کا اعلان ہوا، مقبوضہ مشرقی یروشلم کی گلیوں اور داخلی راستوں پر نمازیوں کا رش بڑھ گیا۔ شہری مختلف چیک پوسٹس اور رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔
نمازیوں نے مسجد اقصیٰ کے مختلف حصوں کو بھر دیا، جہاں قبلی مسجد کے اندر صفیں قائم ہوئیں جبکہ ڈوم آف دی راک کے اطراف بھی عبادت گزاروں کا بڑا اجتماع دیکھا گیا۔
عشاء اور تراویح کی نماز کی امامت امام و خطیب شیخ یوسف ابو سنینہ نے کروائی جبکہ پہلی تراویح کی رات فلسطینیوں کے لیے روحانی وابستگی اور امید کا پیغام بن گئی۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ جنگ بندی کا اعلان کیا جاچکا ہے، تاہم غزہ میں حالیہ صورتحال اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری کارروائیوں کے باعث فلسطینی عوام شدید دباؤ اور غم میں مبتلا ہیں، ایسے میں رمضان کی پہلی رات مسجد اقصیٰ میں عبادت، دعا اور یکجہتی کی علامت بن گئی۔
یروشلم گورنریٹ نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسرائیلی حکام رمضان کے دوران عبادات میں رکاوٹیں ڈال سکتے ہیں، تاہم بڑی تعداد میں مسلمانوں کی آمد نے اس تاثر کو کمزور کردیا۔
مسجد اقصیٰ میں پہلی تراویح کی ادائیگی نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے مذہبی جذبے اور استقامت کو اجاگر کیا۔