برطانوی تھنک ٹینک کے مطابق برطانیہ میں کم آمدنی والے خاندانوں کو اپنا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے 137 سال انتظار کرنا پڑے گا۔
برطانیہ کے ایک تحقیقی ادارے ریزولوشن فاؤنڈیشن کے مطابق موجودہ شرح سے کم آمدنی والے خاندانوں کا معیارِ زندگی دوگنا ہونے میں تقریباً 137 سال لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے اجرتوں میں کمزور اضافہ اور قابلِ استعمال آمدنی میں جمود نے ملک بھر میں بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے، اور اگر تنخواہوں میں اضافہ تیز نہ ہوا تو مزید سیاسی بے چینی کا خدشہ ہے۔
ادارے کے مطابق 2005 تک کے 40 برسوں میں کم آمدنی والے کام کرنے والے خاندانوں کی قابلِ استعمال آمدنی اوسطاً سالانہ 1.8 فیصد اضافے کے باعث دوگنی ہو گئی تھی۔ اس دور کے آخری عشرے میں یہ اضافہ تقریباً 4 فیصد سالانہ تک پہنچ گیا تھا اور توقع تھی کہ آمدنی 18 سال میں دوبارہ دوگنی ہو جائے گی۔
تاہم 2005 کے بعد نمو میں نمایاں سست روی آ گئی اور ٹیکس و رہائشی اخراجات کے بعد آمدنی میں اضافہ صرف تقریباً 0.5 فیصد سالانہ رہ گیا۔
تھنک ٹینک کے مطابق کم آمدنی والے خاندان وہ کام کرنے کی عمر کے گھرانے ہیں جن کی قابلِ استعمال آمدنی قومی اوسط سے کم ہو اور جن میں کوئی فرد سرکاری پنشن کی عمر سے اوپر نہ ہو۔
ایسے خاندانوں کی تعداد تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ بتائی گئی ہے، جنہیں ادارے نے “گمنام برطانیہ” قرار دیا ہے۔
ادارے کی چیف ایگزیکٹو رتھ کرٹس کے مطابق یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملازمت ہمیشہ غربت سے نکلنے کی ضمانت نہیں رہی۔ ان کے مطابق محنت کے باوجود کم تنخواہیں، بڑھتے اخراجات اور صحت و نگہداشت کے مسائل ان خاندانوں کی آمدنی کو جمود کا شکار رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2005 کے بعد آمدنی میں بڑی سست روی کی بنیادی وجہ اجرتوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونا ہے۔ کم آمدنی والے خاندان کے فرد کی اوسط سالانہ مجموعی آمدنی 1990 کی دہائی کے وسط سے بڑھ کر تقریباً 18 ہزار پاؤنڈ ہو گئی، مگر اس اضافے کا زیادہ تر حصہ 2005 سے پہلے ہوا۔
تھنک ٹینک کے مطابق کام کرنے والوں کے لیے حکومتی مراعات میں کمی نے بھی معیارِ زندگی متاثر کیا۔
اعدادوشمار کے مطابق کم آمدنی والے خاندانوں میں تقریباً ہر تین میں سے ایک بالغ کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہے، جبکہ خوشحال گھرانوں میں یہ شرح پانچ میں سے ایک سے بھی کم ہے۔
اسی طرح تقریباً دس لاکھ افراد ہفتے میں کم از کم 35 گھنٹے بلا معاوضہ اپنے رشتہ داروں یا دوستوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
اگرچہ آمدنی کے جمود کا اثر نسبتاً بہتر حالات والے خاندانوں پر بھی پڑا، تاہم ٹیکس کا بوجھ غریب خاندانوں پر نسبتاً کم (تقریباً 12 فیصد) جبکہ خوشحال خاندانوں پر زیادہ (تقریباً 31 فیصد) ہے۔
البتہ کونسل ٹیکس ایک نمایاں استثنا ہے، جہاں غریب گھرانے اپنی آمدنی کے تناسب سے امیر گھرانوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ حصہ ادا کرتے ہیں۔