پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کی قیادت میں آئی سی سی کو جھکنا پڑگیا جب کہ پاکستان اور بنگلادیش کا موقف بھی تسلیم کرلیا گیا ہے۔
محسن نقوی کی متحرک، اصولی اور دور اندیش قیادت کے تحت بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے بنگلادیش کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر سنجیدہ غور کیا۔
حالیہ پیش رفت میں پاکستان نے نہ صرف اپنے تحفظات مؤثر انداز میں پیش کیے بلکہ بنگلادیش کے جائز مطالبات کی بھی بھرپور وکالت کی جسے عالمی کرکٹ ادارے نے تسلیم کیا۔
محسن نقوی نے آئی سی سی کے سامنے پاکستان کا مؤقف واضح قانونی دلائل، منطق اور ادارہ جاتی وقار کے ساتھ رکھا۔
اس موقع پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ہائبرڈ ماڈل جیسے معاملات میں تمام رکن ممالک کے ساتھ مساوی اور منصفانہ سلوک کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بنگلادیش کے خدشات کو بھی عالمی فورم پر اجاگر کرتے ہوئے برابری، احترام اور ادارہ جاتی انصاف کی بات کی۔
محسن نقوی کے مؤقف کی سنجیدگی کو تسلیم کرتے ہوئے آئی سی سی نے پاکستان وفد سے مزید مشاورت کے لیے اپنا وفد پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا جسے عالمی کرکٹ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
اس عمل کے نتیجے میں بنگلادیش کو کسی مالی یا ادارہ جاتی نقصان سے بچالیا گیا اور آئندہ برسوں میں اسے ایک آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دی جائے گی۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور بنگلادیشی عوام نے محسن نقوی کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
یاد رہے کہ محسن نقوی اس وقت نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بلکہ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر اور وفاقی وزیر داخلہ بھی ہیں۔
اس معاملے پر محسن نقوی کے اصولی اور متوازن مؤقف نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے اور پاکستان کو ایک ذمہ دار، باوقار اور انصاف پسند کرکٹ ریاست کے طور پر اجاگر کیا ہے۔
ان کی قیادت کو عالمی کرکٹ میں شفافیت، برابری اور کھیل کے حقیقی جذبے کی علامت قرار دیا جارہا ہے۔