معاشی اشاریوں میں بہتری؛ خسارہ 5 فیصد سے نیچے لانے کا امکان، وزیر خزانہ
پاکستان کا قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد تک آ گیا ہے، محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو بجٹ خسارہ 5 فیصد سے بھی نیچے آ سکتا ہے، جبکہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 12 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق ٹیکس نظام میں اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ متعارف کرانے سے کرپشن اور ریونیو لیکجز میں نمایاں کمی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی کو ٹیکس وصولی سے الگ کر کے وزارتِ خزانہ کے تحت دے دیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے مالیاتی بفرز کی اہمیت کو واضح کر دیا تھا، تاہم بعد کے سیلاب میں پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود اپنے ذرائع سے اقدامات کیے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر 70 فیصد تک آ گیا ہے، جبکہ قرضوں کے بوجھ میں کمی کے لیے ڈومیسٹک لائیبلٹی مینجمنٹ کا عمل جاری ہے۔ اس کے باوجود قرضوں کی ادائیگی اب بھی بجٹ کا سب سے بڑا خرچ ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی کے لیے نیشنل فِسکل فریم ورک طے کیا گیا ہے، جبکہ مالیاتی اصلاحات سے حاصل ہونے والی گنجائش انسانی ترقی، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں لگائی جا رہی ہے۔