اسٹیٹ بینک نے زری پالیسی کی ششماہی رپورٹ جاری کر دی
مالی سال 2026ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ابلاغ بہتر بنانے اور زری پالیسی میں شفافیت بڑھانے کے لیے ششماہی زری پالیسی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں اگست 2025ء کے بعد زری پالیسی کمیٹی کے فیصلوں کی بنیاد بننے والی میکرو اکنامک پیش رفت اور آئندہ منظرنامے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق محتاط زری پالیسی اور جاری مالیاتی یکجائی کے باعث مجموعی میکرو اکنامک حالات میں بہتری آئی ہے۔ مہنگائی کے بارے میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ مالی سال 2026ء اور 2027ء کے بیشتر عرصے میں یہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر رہے گی، تاہم قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے۔
مالی سال 2026ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلند تجارتی خسارے کو کارکنوں کی مضبوط ترسیلاتِ زر اور منصوبہ بند سرکاری آمدنی جزوی طور پر پورا کریں گی۔
اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر جون 2026ء تک 18 ارب ڈالر تک پہنچنے اور مالی سال 2027ء میں تقریباً تین ماہ کی درآمدی کوریج کے قریب ہونے کی توقع ہے۔ مالی حالات میں نرمی اور کیش ریزرو ریشو (سی آر آر) کو 5 فیصد تک کم کرنے کے بعد معاشی سرگرمی میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
حقیقی جی ڈی پی نمو مالی سال 2026ء میں 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2027ء میں مزید بہتری کی توقع ہے۔
رپورٹ میں عالمی ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو ابھرتے ہوئے خطرات قرار دیا گیا ہے۔ ملکی سطح پر کم محصولات وصولی اور ممکنہ منفی موسمیاتی حالات کو بھی مہنگائی، بیرونی کھاتے اور معاشی نمو کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔