امریکا؛ 2025 کے دوران بچوں کی پیدائش میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ
شادی میں تاخیر، روزگار، صحت اور بچوں کی پرورش سے متعلق بڑھتے مالی خدشات والدین بننے سے روک رہے ہیں، ماہرین
امریکا میں سال 2025 کے دوران بچوں کی پیدائش کی شرح میں ایک مرتبہ پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے، گزشتہ سال کے مقابلے میں ہزاروں کی تعداد میں پیدائش کم ہوئی۔
امریکی حکام کے مطابق 2025 کے دوران ملک بھر میں تقریباً 36 لاکھ بچوں کی پیدائش رجسٹر کی گئی جو 2024 کے مقابلے میں لگ بھگ 24 ہزار کم ہے۔
امریکی ادارہ برائے صحت کے مطابق حالیہ اعداد و شمار میں تقریباً تمام پیدائشوں کو شامل کرلیا گیا ہے جب کہ حتمی رپورٹ میں صرف چند ہزار اضافی پیدائشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین آبادیات کے مطابق شادی میں تاخیر، روزگار کی غیر یقینی صورتحال، صحت کی سہولیات کے اخراجات اور بچوں کی پرورش سے متعلق بڑھتے مالی خدشات نوجوانوں کو والدین بننے کے فیصلے سے روک رہے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ کئی افراد یا تو دیر سے بچے پیدا کر رہے ہیں یا پھر بالکل نہیں کر رہے۔
اعداد و شمار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ 2024 میں بچوں کی تعداد میں معمولی اضافہ ہوا تھا تاہم مجموعی پیداواری شرح میں کمی جاری رہی۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی معاشرے میں آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے فی خاتون اوسطاً دو سے زائد بچوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن امریکا میں یہ شرح مسلسل کم ہورہی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ 2025 میں پیدا ہونے والے زیادہ تر بچے گزشتہ سال کے دوران حمل میں آئے تھے جب کہ اس عرصے میں مہنگائی، سیاسی تقسیم اور معاشی دباؤ نے عوام کو شدید بے چینی میں مبتلا رکھا جس کا اثر خاندانی فیصلوں پر بھی پڑا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں بچوں کی پیدائش اور شرحِ افزائش کئی برسوں سے مجموعی طور پر کم ہورہی ہے۔
عالمی وبا کے بعد دو برس تک معمولی اضافہ دیکھا گیا تاہم اب ایک بار پھر کمی کا رجحان واضح ہوگیا ہے جو مستقبل میں امریکا کی آبادی سے متعلق نئے چیلنجز پیدا کرسکتا ہے۔