’’ٹوٹ بٹوٹ‘‘ کے خالق صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کو بچھڑے 48 برس بیت گئے

’’ٹوٹ بٹوٹ‘‘ کے خالق صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کو بچھڑے 48 برس بیت گئے

صوفی تبسم نے نہ صرف اردو بلکہ فارسی ادب میں بھی گہری دلچسپی لی

اردو ادب کے عظیم شاعر، مترجم، نقاد اور بچوں کے مقبول لکھاری صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کو ہم سے بچھڑے 48 برس گزر گئے، تاہم ان کا ادبی سرمایہ آج بھی زندہ ہے اور نئی نسلوں کو علم و ادب کی روشنی فراہم کر رہا ہے۔

صوفی تبسم نے اپنی پوری زندگی علم و ادب کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی، وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ معلم، مدیر، براڈ کاسٹر، نقاد، مترجم اور مصنف بھی تھے، ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی اور وہ ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے تھے۔

صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کو خاص طور پر بچوں کے ادب میں منفرد مقام حاصل ہے، ان کی مشہور تخلیق “ٹوٹ بٹوٹ” آج بھی بچوں میں بے حد مقبول ہے اور کئی نسلوں کے بچپن کی یادوں کا حصہ بن چکی ہے۔

ادبی حلقوں کے مطابق صوفی تبسم قادرالکلام شاعر تھے جنہوں نے نظم، نثر، غزل، گیت، ملی نغموں اور بچوں کی نظموں سمیت ہر صنف میں اپنی پہچان قائم کی، ان کی شاعری میں ترنم، روانی، تغزل اور کیف کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔

صوفی تبسم نے نہ صرف اردو بلکہ فارسی ادب میں بھی گہری دلچسپی لی، انہوں نے غالب اور امیر خسرو کے فارسی کلام کے تراجم کیے، جس سے ان کی علمی وسعت اور زبان پر عبور کا اندازہ ہوتا ہے۔

1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ملی نغموں کی بات ہو اور ملکہ ترنم نور جہاں کا ذکر آئے تو صوفی تبسم کو یاد نہ کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس دور میں ان کی شاعری نے قوم کے جذبے کو ابھارنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سے نوازا جبکہ ایرانی حکومت کی جانب سے انہیں تمغہ نشانِ سپاس بھی دیا گیا۔

اردو ادب کا یہ روشن ستارہ 7 فروری 1978ء کو ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں آسودہ خاک ہیں، مگر ان کا نام اور کام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related posts

ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے مذاکرات درست سمت میں جا رہے ہیں، امریکی صدر

انٹر بینک میں ڈالر مزید سستا ہوگیا

افغان طالبان رجیم میں معاشی بحران عروج پر، سرمایہ کار خوفزدہ