بلوچستان دہشت گرد حملے عالمی امن کے لیے خطرہ، اقوامِ متحدہ کا دوٹوک اعلان

بلوچستان دہشت گرد حملے عالمی امن کے لیے خطرہ، اقوامِ متحدہ کا دوٹوک اعلان

دہشت گردی کسی بھی مقصد، نظریے یا جواز کے تحت قابلِ قبول نہیں، اعلامیہ

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ دہشت گرد حملوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں نہایت سنگین، بزدلانہ اور انسانیت کے خلاف کارروائیاں قرار دیا ہے، جو عالمی امن کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

سلامتی کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 31 جنوری 2026 کو پیش آنے والے یہ دہشت گرد حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

یو این ایس سی نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے عوام اور صوبہ بلوچستان کے گورنر سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جبکہ زخمی افراد کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام بھی دیا گیا ہے۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی خواہ کسی بھی شکل میں ہو، دنیا بھر میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔

سلامتی کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ ان حملوں میں ملوث تمام افراد، ان کے سہولت کار، منصوبہ ساز اور مالی مدد فراہم کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یو این ایس سی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کرے تاکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ دہشت گردی کسی بھی مقصد، نظریے یا جواز کے تحت قابلِ قبول نہیں اور تمام ریاستیں اقوامِ متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق، بین الاقوامی انسانی قانون اور پناہ گزینوں سے متعلق قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اس ناسور کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

Related posts

مذاکرات کے لیے تیار مگر میزائل پروگرام ہماری ریڈ لائن ہے، ایران

محمد بن راشد نے DIFC عدالتوں کے تین نئے ججوں میں قسم کھائی ہے

عالمی سفارتکاری میں بڑی پیش رفت، شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ