سانحہ گل ہلازہ؛ وزیر اعلیٰ سندھ کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو 1 کروڑ دینے کا اعلان

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 1 کروڑ روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے پر نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کی بحالی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے جب کہ کمشنر کراچی کو ہدایت دی گئی ہے کہ نقصانات کا جلد از جلد تخمینہ لگایا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے مکمل منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور جن افراد کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے، انہیں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے فی کس امداد دی جائے گی اور کل سے امدادی رقم کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ وزرا جاں بحق افراد کے گھروں میں جاکر تعزیت کریں گے جبکہ لاپتہ افراد کی بازیابی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے فرانزک ادارے سے فرانزک تحقیقات کے لیے درخواست کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق گل پلازہ کا تقریباً 40 فیصد حصہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے اور باقی عمارت کی حالت بھی تسلی بخش نہیں، اس لیے گل پلازہ کو مکمل طور پر گرانا پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پلازہ میں 1200 کے قریب دکانیں تھیں اور متاثرہ دکانوں کو کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ غلطیاں ہوئی ہیں تاہم اس وقت سب سے اہم بات متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ آتشزدگی کی وجوہات کا ابھی تک حتمی تعین نہیں ہوسکا تاہم ابتدائی طور پر شبہ ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ سانحہ گل پلازہ میں اب تک 15 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جب کہ 65 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں ایک فائر فائٹر محمد فرقان بھی شہید ہوا جس کے خاندان کی دیکھ بھال کے لیے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے 26 فائر بریگیڈ گاڑیاں، 10 باؤزر اور 4 اسنارکل موقع پر پہنچے جب کہ کے ایم سی اور ریسکیو 1122 کے 100، 100 فائر فائٹرز نے آپریشن میں حصہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فائر فائٹرز تین مختلف مقامات سے عمارت میں داخل ہوئے۔ سعید غنی، مرتضیٰ وہاب اور عبداللہ مراد نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا جب کہ نیوی اور کے پی ٹی نے بھی آگ بجھانے میں مدد فراہم کی۔

وزیراعلیٰ سندھ مزید کہتے ہیں کہ اب تک جانی نقصان کافی زیادہ ہے تاہم حتمی تعداد دینا قبل از وقت ہے۔ اب تک تخریب کاری کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔

Related posts

یونان کے قریب کشتی تصادم، پندرہ تارکین وطن ہلاک، 50 سے زائد زخمی

اسلام آباد میں پہلی انڈسٹریل ایکسپو 2026 کا کامیاب اختتام

بلوچستان دہشت گرد حملے عالمی امن کے لیے خطرہ، اقوامِ متحدہ کا دوٹوک اعلان