کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبیل انعام مل گیا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر میں خود کو امن کے سب سے بڑے علمبردار سمجھتے ہیں اور ان کی خواہش بھی تھی کہ امن کو نوبیل انعام انہیں ہے ملے۔

دنیا کے سب سے معتبر ایوارڈ کے حصول کے لیے امریکی صدر نے کئی جتن بھی کیے، ہر فورم پر برملا اس بات کا اظہار کیا کہ اس انعام کا حقدار میں ہوں یہی نہیں بلکہ اپنے حامی ممالک سے نوبیل کمیٹی کو درخواستیں بھی بھجوائیں، مگر انہیں کامیابی نہ مل سکی۔

نوبیل کمیٹی نے امن کا ایوارڈ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو کو دیا جو اس کی اصل حقدار تھیں۔

مگر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ایوارڈ کو حاصل کرنے کی تڑپ نے ماریا کورینا ماچادو کو مجبور کر دیا اور بالآخر انہوں نے اپنا ایوارڈ انہیں دے دیا، حالانکہ چند روز قبل صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی افواج نے وینزویلا پر حملہ کیا تھا اور ان کے صدر اور انکی اہلیہ کو اغوا کر کے امریکا منتقل کر دیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو سے ان کے نوبیل امن انعام کا میڈل قبول کر لیا، جو انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ایک تاریخی ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کو پیش کیا۔

ماچادو نے یہ سیمبولک تحفہ صدر ٹرمپ کو اس کے وینزویلائی عوام کی آزادی کے لیے عزم کے اعتراف میں دیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مشترکہ احترام کا مظہر ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں لکھا کہ ماریا نے مجھے میرے کیے گئے کام کے لیے اپنا نوبیل امن انعام پیش کیا ایسا شاندار اشارہ برائے باہمی احترام۔ شکریہ، ماریا

انہوں نے کہا کہ ماریا نے مجھے میرے کیے گئے کام کے لیے اپنا نوبیل امن انعام پیش کیا ایسا شاندار اشارہ برائے باہمی احترام۔ شکریہ، ماریا

وائٹ ہاؤس کی جانب سے شائع ہونے والی تصویر میں صدر ٹرمپ اور ماچادو ایک بڑے سنہری فریم کے ساتھ نظر آئے جس میں یہ میڈل رکھا ہوا تھا، اور تحریر تھی

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے نام غیر معمولی قیادت، طاقت کے ذریعے امن، اور وینزویلائی لوگوں کی طرف سے ذاتی علامتِ شکرگزاری۔

تاہم ناروے کے نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے قبل ازیں واضح کیا تھا کہ نوبیل امن انعام کا اعزاز منتقل، بانٹا یا منسوخ نہیں کیا جا سکتا  اس لیے میڈل کی منتقلی صرف علامتی قدم ہے، اصل اعزاز ماچادو ہی کا ہے۔

یہ غیر معمولی سیاسی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماچادو امریکا سے وینزویلا کے مستقبل میں ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

خاص طور پر اس کے بعد کہ ٹرمپ نے سابق صدر نکولس مادورا کے تخت سے ہٹنے کے بعد ماچادو کو ملک کی قیادت کے لیے سرکاری حمایت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

Related posts

اسلام آباد میں پہلی انڈسٹریل ایکسپو 2026 کا کامیاب اختتام

بلوچستان دہشت گرد حملے عالمی امن کے لیے خطرہ، اقوامِ متحدہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان اور آئرلینڈ کا وارم اپ میچ بارش کے باعث منسوخ