گرین لینڈ پر ممکنہ امریکی قبضہ، نیٹو اتحاد ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ گیا

یورپی یونین کے دفاع اور خلائی امور کے کمشنر نے گرین لینڈ کے معاملے پر ایک غیر معمولی اور سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر فوجی قبضے کی کوشش کی تو یہ اقدام نیٹو اتحاد کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی کارروائی کے نتائج نہ صرف سیاسی بلکہ عوامی اور عالمی سطح پر انتہائی سنگین ہوں گے۔

سویڈن میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی کانفرنس کے دوران یورپی کمشنر اینڈریئس کوبیلیئس نے کہا کہ وہ ڈنمارک کی وزیراعظم کے مؤقف سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ گرین لینڈ پر طاقت کے استعمال سے نیٹو کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔

ان کے مطابق اس طرح کا قدم یورپ اور امریکا کے درمیان اعتماد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا اور ٹرانس اٹلانٹک تعلقات شدید بحران کا شکار ہو جائیں گے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکا کو گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا چاہیے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق گرین لینڈ ایک اسٹریٹجک اہمیت کا حامل اور معدنی وسائل سے مالا مال آرکٹک خطہ ہے، جس پر روس یا چین کے قبضے کو روکنے کے لیے امریکی ملکیت ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ محض امریکی فوجی موجودگی کافی نہیں، جبکہ گرین لینڈ اور ڈنمارک واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ یہ علاقہ فروخت کے لیے نہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکا اور ڈنمارک، دونوں نیٹو کے رکن ممالک ہیں اور رواں ہفتے گرین لینڈ کے معاملے پر باضابطہ بات چیت بھی متوقع ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے طاقت کے استعمال کے امکان کو مکمل طور پر رد نہ کرنے نے یورپی دارالحکومتوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

یورپی کمشنر نے واضح کیا کہ اگر ڈنمارک کو کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو یورپی یونین کے معاہدے کی شق 42.7 کے تحت تمام رکن ممالک ڈنمارک کی مدد کے پابند ہوں گے۔

ان کے مطابق یورپی یونین ضرورت پڑنے پر گرین لینڈ کو اضافی سیکیورٹی فراہم کر سکتی ہے، جس میں فوجی دستے، جنگی بحری جہاز، اینٹی ڈرون نظام اور دیگر دفاعی سہولیات شامل ہو سکتی ہیں۔

کوبیلیئس نے گرین لینڈ پر زبردستی قبضے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے اثرات یورپ اور امریکا کے درمیان ہر شعبے، خصوصاً تجارت، پر پڑیں گے اور خود امریکا کو بھی شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا، چاہے امریکا نیٹو میں رہے یا نہ رہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا پیچھے ہٹتا ہے تو موجودہ نیٹو اپنی موجودہ شکل میں برقرار نہیں رہ سکے گا، جو عالمی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔

Related posts

متحدہ عرب امارات کے صدر عالمی رہنماؤں اور عالمی حکومتوں کے سربراہی اجلاس میں وفد کے سربراہان سے ملاقات کرتے ہیں

فروری کا مہینہ ہانیہ عامر کیلئے خاص کیوں؟

مادھوری کے گانے پر امر خان کو بولڈ لباس میں رقص کرنا مہنگا پڑ گیا