ایران کا دو ٹوک پیغام، حملہ ہوا تو اسرائیلی اور امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے
ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشے کے باعث اسرائیل کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے
تہران میں جاری احتجاج، انٹرنیٹ بندش اور ممکنہ امریکی مداخلت کے سائے میں ایران نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔
بدلتی صورتحال کے پیش نظر ایرانی پارلیمنٹ کا ہنگامی اور غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی سلامتی اور کسی بھی بیرونی حملے کی صورت میں جوابی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر نے واضح اور جارحانہ انداز میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کوئی عسکری قدم اٹھایا تو خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔
ان کے مطابق جواب صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ضرورت پڑنے پر اسرائیلی ٹھکانوں اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
محمد باقر کا کہنا تھا کہ ایران میں حالیہ بدامنی محض اندرونی معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کی منصوبہ بندی کارفرما ہے، جس کا مقصد ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشے کے باعث اسرائیل کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، جبکہ دفاعی اداروں نے کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عمانی وزیر خارجہ ابو سعیدی نے تہران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی، رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی کشیدہ صورتحال، امن و امان اور ممکنہ بحران پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ادھر نیٹ بلاکس کی رپورٹ نے بھی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے مطابق ایران بھر میں انٹرنیٹ سروس 60 گھنٹوں سے زائد عرصے سے معطل ہے۔
اس بندش نے مظاہرین کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی ایک دوسرے سے کاٹ دیا ہے، جبکہ معلومات تک رسائی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔