پاکستان کے معروف یوٹیوبر رجب بٹ نے اپنی شادی اور خاندانی معاملات سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں اور تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے پہلی بار کھل کر مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔
انسٹاگرام اسٹوریز پر جاری بیان میں رجب بٹ نے اپنے سالے شیخ عون پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس چیٹس، اسکرین شاٹس اور ریکارڈنگز موجود ہیں جو پوری صورتحال کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں، تاہم وہ ابتدا سے چاہتے تھے کہ یہ معاملہ سوشل میڈیا تک نہ پہنچے۔
رجب بٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران ان کے اہلِ خانہ، بشمول والدہ، بہن اور نو ماہ کے بیٹے کیوان کو بلاجواز الزامات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا، صرف اس وجہ سے کہ وہ خاموش رہے اور سچ کے ساتھ کھڑے رہے۔
اپنے بیان میں رجب بٹ نے سوال اٹھایا کہ خاندان کے افراد کے خلاف منفی زبان استعمال کرنا، فین پیجز سے رابطے کرنا، گروپس بنانا اور مبینہ طور پر غلط معلومات پھیلانا کہاں کی تربیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی اہلیہ ایمان اور بیٹے کیوان کو اس تنازع کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
بیٹے کو وی لاگز میں شامل نہ کرنے سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے رجب بٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کی اہلیہ ایمان کا تھا، جنہوں نے بیٹے کا نام اور چہرہ سوشل میڈیا سے دور رکھنے کی ہدایت کی، اسی فیصلے پر مجھے شدید تنقید اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا، جسے میں نے اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے برداشت کیا۔
رجب بٹ نے واضح کیا کہ یہ معاملہ آخری بار عوامی سطح پر لایا جا رہا ہے، پوڈکاسٹ اینکرز اور دیگر افراد کو ذاتی معلومات کون فراہم کر رہا ہے اور تنقید کا رخ صرف میرے اور میری اہلیہ کی جانب کیوں رکھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس تمام شواہد موجود ہیں اور انہوں نے فریقین کو اللہ کے خوف کا واسطہ بھی دیا۔
شادی کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے رجب بٹ نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ یہ رشتہ برقرار رہے گا یا نہیں، تاہم اگر یہ قائم رہا تو صرف اللہ کے حکم سے۔ انہوں نے بعض الزامات اور نازیبا الفاظ کے استعمال کو اخلاقی اقدار کے منافی قرار دیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل شیخ عون کی جانب سے ایمان کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق بیانات سامنے آئے تھے، جس پر رجب بٹ کا کہنا تھا کہ یہ میاں بیوی کا ذاتی معاملہ ہے اور جب تک ایمان ان کی اہلیہ ہیں، انہیں بلاوجہ عوامی بحث کا حصہ نہ بنایا جائے۔
یاد رہے کہ رجب بٹ کی شادی دسمبر 2024 میں ہوئی تھی، جو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ کا مرکز بنی۔ کچھ عرصہ بیرونِ ملک قیام کے بعد وہ حال ہی میں پاکستان واپس آئے ہیں اور مختلف قانونی معاملات کا سامنا کر رہے ہیں۔
