وینزویلا اور امریکا کے درمیان بحال ہوتے سفارتی تعلقات
وینزویلا نے واشنگٹن میں اپنے طویل عرصے سے بند سفارت خانے کی صورتحال دیکھنے کیلئے ایک وفد بھیجنے کا اعلان کیا ہے
واشنگٹن: امریکا اور وینزویلا کے درمیان ڈرامائی تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں، ایک ہفتہ قبل جنگ کے دہانے پر موجود ممالک اب اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے رات کی تاریکی میں وینزویلا کے صدر کو حراست میں لینے کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد، وینزویلا نے امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے ۔
اسی سلسلے میں وینزویلا نے واشنگٹن میں اپنے طویل عرصے سے بند سفارت خانے کی صورتحال دیکھنے کیلئے ایک وفد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسے روڈریگز کے بیان کے مطابق، ان کی حکومت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک ایسے “ابتدائی سفارتی عمل” پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک میں سفارتی مشنز کی دوبارہ بحالی ہے۔
جمعے کے روز امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان نے تصدیق کی کہ امریکی سفارت کار تقریباً سات سال بعد پہلی مرتبہ کاراکاس پہنچے تاکہ امریکی سفارت خانے کی ممکنہ بحالی کا جائزہ لیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے چین اور روس کو وینزویلا کا تیل فروخت کرنے کی آفر کردی
ماہرین کے مطابق یہ اعلانات صرف ابتدائی اور محتاط اقدامات ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات روزانہ کی بنیاد پر بدل رہے ہیں۔
تاہم ممکنہ سفارتی بحالی کی خبر نے اس تیزی کے ساتھ توجہ حاصل کی جس سے تعلقات کی نوعیت بدل رہی ہے، اور ان تضادات کی وجہ سے بھی جو اس عمل میں نظر آ رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ وینزویلا کی حکومت کے ساتھ “انتہائی اچھے تعلقات” رکھ رہے ہیں، حالانکہ یہ تقریباً وہی حکومت ہے جو ایک ہفتہ قبل موجود تھی، فرق صرف یہ ہے کہ اب صدر نکولس مادورو اقتدار میں نہیں ہیں۔
اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی ونس نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کو منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا ہے، حالانکہ ایک وفاقی فردِ جرم کے مطابق یہی گروہ وینزویلا کی سابق حکومت کے ساتھ قریبی روابط رکھتے تھے۔
مزید تضاد اس وقت سامنے آیا جب ڈیلسے روڈریگز نے اپنے بیان کے آغاز میں نکولس مادورو کی گرفتاری کو “اغوا” قرار دیا اور امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قانونی نظام کی کھلی خلاف ورزی کہا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔
اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وینزویلا اس “سفارتی جائزہ عمل” کا آغاز اس لیے کر رہا ہے تاکہ مبینہ جارحیت، صدرِ مملکت اور خاتونِ اول کی گرفتاری کے نتائج سے نمٹا جا سکے اور ساتھ ہی باہمی دلچسپی کے امور پر ایک عملی ایجنڈا آگے بڑھایا جا سکے۔