واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے حصول کے معاملے میں امریکی فوج کا استعمال “ہمیشہ ایک آپشن” کے طور پر زیرِ غور ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مختلف امکانات پر غور کر رہے ہیں، جبکہ انہوں نے اس خطے کو قومی سلامتی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم تمام ممکنہ راستوں پر بات کر رہی ہے اور فوجی آپشن ہمیشہ کمانڈر ان چیف کے اختیار میں موجود ہے۔
یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ کے اس اعلان پر سخت ردعمل دیا ہے۔
فرانس، جرمنی، برطانیہ اور دیگر ممالک کے سربراہان نے ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈریکسن کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ صرف اس کے عوام کا ہے اور اس سے متعلق فیصلے صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کو کرنے چاہئیں۔
مزید پڑھیں: گرین لینڈ کے رہائشیوں نے امریکہ کے ساتھ شامل ہونے سے انکار کردیا
ان کا کہنا تھا کہ آرکٹک خطے کی سلامتی نیٹو کی ترجیح ہے اور کسی بھی بیرونی قبضے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام نے امریکی محکمہ خارجہ سے ایک فوری ملاقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ امریکی دعووں کے بارے میں وضاحت حاصل کی جا سکے۔
ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ گرین لینڈ پر چین کے اثر و رسوخ یا روسی بحری جہازوں کی موجودگی کے حوالے سے ٹرمپ کی اطلاعات درست نہیں ہیں اور ملاقات کا مقصد حقائق واضح کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد گرین لینڈ کے حصول کی ضرورت پر زور دیا، جس سے امریکی، ڈنمارک اور یورپی تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
تاہم، گرین لینڈ کی حکومت اور عوام نے بارہا کہا ہے کہ وہ امریکی کنٹرول کا حصہ نہیں بننا چاہتے، اور امریکہ میں بھی اس خیال کی مقبولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔
کانگریس میں کچھ ری پبلکن رہنماؤں نے فوجی کارروائی کے امکانات کو کم اہمیت دی، جبکہ ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ صدر کے بیانات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور قانون سازی کے ذریعے فوجی استعمال کی ممانعت کا بندوبست کیا جائے۔
یہ واقعہ آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور فوجی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں امریکہ اور روس کے درمیان دفاعی اور اقتصادی مفادات کے تصادم کے امکانات شدت اختیار کر چکے ہیں۔