وینزویلا 2 ارب ڈالر کا تیل دے گا، رقم میں رکھوں گا، ٹرمپ کا اعلان
اس اقدام سے وہ تیل امریکا منتقل کیا جا سکتا ہے جو پہلے چین کو بھیجا جاتا تھا
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا امریکا کو 2 ارب ڈالر مالیت (30 سے 50 ملین بیرل) تیل فراہم کرے گا۔
سماجی رابطے کی ویبسائٹ ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ تیل مارکیٹ قیمت پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم امریکا کے کنٹرول میں رہے گی۔
انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اس شرط کے تحت طے پایا ہے کہ وینزویلا امریکی اور نجی تیل کمپنیوں کو اپنے توانائی کے شعبے تک مکمل رسائی دے، بصورت دیگر مزید فوجی کارروائی کا خطرہ موجود رہے گا۔
I am pleased to announce that the Interim Authorities in Venezuela will be turning over between 30 and 50 MILLION Barrels of High Quality, Sanctioned Oil, to the United States of America. This Oil will be sold at its Market Price, and that money will be controlled by me, as…
— Commentary: Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) January 7, 2026
امریکی صدر کے مطابق امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ اس معاہدے پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہوں گے اور تیل کو براہِ راست وینزویلا کے جہازوں سے امریکی بندرگاہوں پر منتقل کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو میں اپنے پاس رکھوں گا، اس رقم کو امریکا اور وینزویلا کے شہریوں کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس اقدام سے وہ تیل امریکا منتقل کیا جا سکتا ہے جو پہلے چین کو بھیجا جانا تھا۔ چین گزشتہ ایک دہائی (خاص طور پر 2020 میں امریکی پابندیوں کے بعد) سے وینزویلا کا سب سے بڑا تیل خریدار رہا ہے۔
یہ ایک ایسا اقدام ہے جو چین کو تیل کی فراہمی میں کمی اور امریکا کو وینزویلا کی تیل منڈی تک براہِ راست رسائی فراہم کر سکتا ہے۔
اعلان کے بعد عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمتوں میں ڈیڑھ فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی۔
واضح رہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے عالمی مالیاتی نظام سے کٹ چکی ہے اور تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن تک اس کی رسائی محدود ہے، جس سے اس معاہدے کے مالی اثرات پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔