کم نمبرز اور تعلیمی دباؤ؛ طالبہ کے اقدامِ خودکشی کی وجہ سامنے آ گئی
پولیس نے ابتدائی تحقیقات میں تعلیمی نتائج سے عدم اطمینان کو اقدام خودکشی کی وجہ قرار دیا ہے
لاہور: یونیورسٹی آف لاہور میں اکیس سالہ طالبہ کے اقدامِ خودکشی کے واقعے کی پولیس تفتیش جاری ہے۔
پولیس نے ابتدائی تحقیقات میں تعلیمی نتائج سے عدم اطمینان کو اقدام خودکشی کی وجہ قرار دیا ہے۔
پولیس کے مطابق طالبہ صبح 7 بج کر 58 منٹ پر یونیورسٹی پہنچی، تاہم وہ کلاس میں نہیں گئی اور کچھ وقت یونیورسٹی کی دوسری منزل پر موجود رہی۔
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ طالبہ نے چھلانگ لگانے سے قبل تقریباً 27 منٹ تک فون پر بات کی، جس کے بعد صبح 8 بج کر 30 منٹ پر اس نے دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کے بھائیوں نے وقوعے سے ایک روز قبل پرانا موبائل خراب ہونے پر اسے نیا موبائل فون لے کر دیا تھا، جبکہ دونوں بھائیوں کے تفصیلی بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق طالبہ نے یونیورسٹی میں ہونے والے ایک ٹیسٹ میں 35 میں سے 18 نمبر حاصل کیے تھے، جس پر وہ مطمئن نہیں تھی۔ کم نمبرز آنے پر اس نے والد اور بھائیوں کو بتایا تھا کہ وہ مزید پڑھنا نہیں چاہتی۔
پولیس کے مطابق معاملے کی مزید تفتیش کے لیے طالبہ کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی حاصل کیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔