یو این چیف نے امریکی وینزویلا آپریشن کو غیر قانونی قرار دے دیا
صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی امریکی تحویل میں موجودگی سے ملک میں سنگین عدم استحکام پھیل سکتا ہے
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا میں 3 جنوری کو ہونے والی امریکی فوجی کارروائی پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
یہ بیان سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا، جو وینزویلا کی صورتحال اور خطے کے امن کو لاحق خطرات پر بلایا گیا تھا۔
گوتریس نے اپنے سخت الفاظ میں کہا کہ امریکی ایکشن میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیادی شقوں کی پاسداری نہیں کی گئی، جن میں کسی بھی ریاست کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے خلاف طاقت یا دھمکی کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی امریکی تحویل میں موجودگی سے ملک میں سنگین عدم استحکام پھیل سکتا ہے، جو پورے لاطینی امریکا پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔
سیکرٹری جنرل نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر جامع سیاسی مکالمہ شروع کریں تاکہ وینزویلا کے عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ منشیات کی اسمگلنگ، وسائل کے تنازعات اور انسانی حقوق جیسے مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی قانون میں مؤثر اور قانونی راستے موجود ہیں، طاقت کا استعمال ان کا متبادل نہیں بن سکتا۔
گوتریس نے یہ بھی یاد دلایا کہ اقوام متحدہ نے وینزویلا حکومت کی درخواست پر بھیجے گئے انتخابی ماہرین کے پینل کی رپورٹ میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی اور انتخابات کے نتائج کی مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اب صورتحال اس سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔
سلامتی کونسل کا اجلاس جاری ہے اور توقع ہے کہ اس میں مختلف ممالک کی جانب سے سخت موقف سامنے آئیں گے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان امریکی پالیسی کے لیے بڑا دھچکا ہے اور وینزویلا بحران اب اقوام متحدہ کی سطح پر ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔