ایرانی حکومت کا بڑا یوٹرن، مظاہروں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے
حکومت ہر ایرانی شہری کو ماہانہ 10 لاکھ تومان کی مالی امداد فراہم کرے گی
تہران: ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری شدید عوامی احتجاج، جو مہنگائی، معاشی بحران اور ریال کی تاریخی گراوٹ کے خلاف شروع ہوئے تھے، نے بالآخر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سخت گیر پالیسی اپنانے والی ایرانی قیادت نے اچانک مظاہرین کے لیے ایک بڑا ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک اہم بیان میں حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بتایا کہ حکومت ہر ایرانی شہری کو ماہانہ 10 لاکھ تومان (موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق تقریباً 7 امریکی ڈالر) کی مالی امداد فراہم کرے گی۔
یہ امداد اگلے چار مہینوں تک جاری رہے گی اور شہریوں کے بینک اکاؤنٹس میں براہ راست کریڈٹ کی جائے گی۔
تاہم یہ رقم نقد شکل میں نہیں دی جائے گی بلکہ ایک خصوصی کریڈٹ کارڈ کی صورت میں ہوگی، جو صرف بنیادی اشیائے ضروریہ جیسے خوراک، ادویات اور دیگر روزمرہ کی چیزوں کی خریداری پر خرچ کی جا سکے گی۔
ترجمان نے اس اقدام کو عوام کے معاشی دباؤ کو فوری طور پر کم کرنے کی کوشش قرار دیا اور زور دیا کہ یہ سہولت ملک کے ہر شہری کو یکساں طور پر ملے گی، بغیر کسی امتیاز کے۔
یہ اعلان ایسے نازک موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھل کر دھمکی دی تھی کہ اگر احتجاج کے دوران مزید مظاہرین ہلاک ہوئے تو امریکا ایران کے خلاف بہت سخت اور زوردار کارروائی کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی یہ تنبیہ اور عالمی دباؤ نے ایرانی قیادت کو مجبور کیا کہ وہ طاقت کے بجائے ریلیف کا راستہ اختیار کرے۔
احتجاج اب بھی ملک کے متعدد شہروں میں جاری ہیں، لیکن اس اعلان کے بعد سڑکوں پر موجود مظاہرین میں کچھ سکون نظر آ رہا ہے۔
کچھ لوگوں نے اسے حکومت کی کمزوری قرار دیا ہے جبکہ دیگر اسے مثبت قدم سمجھ رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ مالی پیکج احتجاج کو مکمل طور پر ختم کر پائے گا یا عوام کے بنیادی مطالبات اب بھی برقرار رہیں گے۔
