وینزویلا پر حملے کے بعد ٹرمپ نے ایران اور لاطینی امریکا کے ممالک کو بھی دھمکیاں دے ڈالیں
ایرانی حکام نے الزام لگایا کہ بیرونی قوتیں احتجاج کو ہوا دے رہی ہیں
امریکی صدر نے وینزویلا پر حملے کے بعد ایران سمیت لاطینی امریکا کے ممالک کولمبیا، میکسیکو اور کیوبا کو بھی حملے کے دھمکیاں دی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری اقتصادی بحران کے باعث پھیلنے والے مظاہروں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تہران کو واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر سکیورٹی فورسز نے پرامن مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکا تیار اور لوڈڈ ہے، اور مظاہرین کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔
ایران میں یہ احتجاج گزشتہ ہفتے سے جاری ہیں، جو مہنگائی، کرنسی کی گراوٹ اور معاشی مسائل کی وجہ سے شروع ہوئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک درجن بھر کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ حکومتی ذرائع کم اعداد بتا رہے ہیں۔
یہ مظاہرے 2022 کی مہسا امینی تحریک کے بعد سب سے بڑے ہیں، جو اب شہروں سے دیہی علاقوں تک پھیل چکے ہیں۔ ایرانی حکام نے الزام لگایا کہ بیرونی قوتیں احتجاج کو ہوا دے رہی ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کا بیان تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
دوسری جانب، وینزویلا میں نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد صدر ٹرمپ نے لاطینی امریکا کے دیگر ممالک کو بھی نشانہ بنایا۔
ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کولمبیا کی صورتحال کو انتہائی خراب قرار دیا اور صدر گستاوو پیٹرو پر منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ جب پوچھا گیا کہ کیا کولمبیا میں فوجی آپریشن ہو سکتا ہے تو ٹرمپ نے کہا: “یہ اچھا آئیڈیا لگتا ہے۔”
ٹرمپ نے کیوبا کی حکومت کو گرنے کے قریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تبدیلی خود بخود آ سکتی ہے، کیونکہ وینزویلا سے مالی امداد بند ہو گئی ہے۔
میکسیکو کو بھی خبردار کیا گیا کہ منشیات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات کریں، ورنہ امریکا کو سخت قدم اٹھانا پڑے گا۔ ان بیانات کو ماہرین امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
وینزویلا میں مادورو کی گرفتاری کے بعد نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو عبوری صدر مقرر کیا گیا ہے، لیکن ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا اب ملک کے معاملات سنبھال رہا ہے۔ عالمی سطح پر ان اقدامات کی شدید مذمت ہو رہی ہے، جبکہ علاقائی ممالک تشویش کا شکار ہیں۔