ایران میں پرتشدد مظاہرے، ڈونلڈ ٹرمپ نے مداخلت کی دھمکی دے دی
ایران میں گزشتہ ایک ہفتے سے شدید معاشی بحران کے خلاف احتجاج جاری ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے پُرامن مظاہرین کو قتل کیا تو امریکا مداخلت کرے گا اور مظاہرین کو بچانے کے لیے قدم اٹھائے گا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک مختصر بیان میں کہا کہ امریکا ہر ممکن اقدام کے لیے تیار ہے، تاہم انہوں نے کسی ممکنہ کارروائی کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
برطانوی خبر رساں اداے کے مطابق صدر ٹرمپ کے اس بیان پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی لاریجانی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکی مداخلت پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اگر ایران کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرے گا تو اس کے اثرات خطے بھر میں پھیلیں گے اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔
ایران میں گزشتہ ایک ہفتے سے شدید معاشی بحران کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ غیر ملکی اور مقامی ذرائع کے مطابق جمعرات کو احتجاج کے پانچویں روز کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق جنوب مغربی شہر لوردگان میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں دو افراد جان سے گئے، جبکہ مغربی شہروں آزنا اور کوہدشت میں مزید چار ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
احتجاج اتوار کے روز تہران میں شروع ہوا، جہاں تاجروں نے ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں شدید کمی پر احتجاج کیا۔
بعد ازاں یونیورسٹی طلبہ بھی مظاہروں میں شامل ہو گئے اور یہ احتجاج کئی شہروں تک پھیل گیا، جہاں حکومت مخالف نعرے لگائے گئے۔ بعض مظاہرین نے آیت اللہ خامنہ ای کے اقتدار کے خاتمے اور حتیٰ کہ بادشاہت کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ جون میں امریکا نے ایران کے جوہری مراکز پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا۔
