سعودی اتحاد کی افواج نے یمن میں یو اے ای کے بحری جہازوں پر حملہ کر دیا
یمنی حکومت نے بھی اماراتی فورسز کو چوبیس گھنٹوں کے اندر ملک سے نکلنے کا حکم جاری کر دیا
یمن ایک بار پھر خطرناک جنگی منظرنامے کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ساحلی علاقوں میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب سعودی اتحاد کی جانب سے یمن میں موجود متحدہ عرب امارات کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس غیر متوقع کارروائی نے نہ صرف میدانِ جنگ کو گرم کر دیا بلکہ اتحادی ممالک کے درمیان کھلی محاذ آرائی کے خدشات بھی پیدا کر دیے۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب اتحادی افواج نے یو اے ای کو 24 گھنٹوں میں یمن چھوڑنے کا سخت الٹی میٹم دے دیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقررہ وقت میں انخلا نہ ہونے کی صورت میں مزید سخت عسکری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب یمنی حکومت نے بھی اماراتی فورسز کو چوبیس گھنٹوں کے اندر یمن سے نکلنے کا حکم جاری کر دیا۔
یمنی حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی ملک کی خودمختاری کے لیے خطرہ بن چکی ہے اور اب کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں اتحاد نے مکلا بندرگاہ پر فضائی حملہ کیا ہے، جسے اتحاد نے یو اے ای کی حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشن کونسل (STC) کو ملنے والی مبینہ غیر ملکی عسکری مدد کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے۔
قطری میڈیا کے امورِ یمن کے ماہر احمد الشلافی کے مطابق یہ حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حضرموت اور المہرہ جو عمان اور سعودی عرب کی سرحدوں سے متصل اہم صوبے ہیں ، ریاض کے لیے سیکیورٹی کے اعتبار سے نہایت حساس ہیں۔
