قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کو مداحوں سے پچھڑے 43 برس بیت گئے
قومی ترانے کے بعد حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام ہے۔
قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کو اس دنیا سے گئے 43 سال بیت گئے۔
قومی ترانے کے بعد حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام ہے، علمی و ادبی خدمات پر انہیں حکومت کی طرف سے ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا۔
حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900 کو جالندھر میں پیدا ہوئے، نامور شاعر کا ادب سے گہرا لگاؤ تھا۔
انہوں نےغزل اور نظموں کے ذریعے اپنی الگ پہچان بنائی اور غزل و نظموں کے میدان میں بھرپور کام کیا جبکہ متعدد شہرہ آفاق کتب بھی لکھیں۔
ان کے کلام پر ملکہ پکھراج نے آواز کا جادو جگایا اور ملک گیر شہرت حاصل کی۔ 1949 میں 723 شاعروں اور نغمہ نگاروں نے قومی ترانہ لکھنے کے مقابلے میں حصہ لیا جبکہ مقابلے میں حفیظ جالندھری کا لکھا ہوا قومی ترانہ منتخب ہوا۔
ادبی اورفنی خدمات پرحفیظ جالندھری کوحکومت نے ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ انہیں شاعر پاکستان اور شاعر اسلام کےخطابات سے بھی دیے گئے۔
وہ 21 دسمبر 1982 کو 82 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے، انہیں گریٹر اقبال پارک میں دفن کیا گیا۔
