ایک موبائل فون بچے کی جان سے زیادہ قیمتی؟ بھارت میں سفاکیت کی انتہا
واقعے نے بھارتی تعلیمی اداروں میں کی جانے والی سختیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں
نئی دہلی: بھارت میں تعلیمی نظام کی سفاکی کا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آ گیا، جس سے بھارت کا سفاک چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق چھٹی جماعت کے 14 سالہ طالب علم نے مبینہ ذہنی دباؤ اور خوف کے باعث اسکول کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی۔
مزید پڑھیں: بھارت کا بڑھتا دفاعی بجٹ، خطے میں عدم توازن کا باعث
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طالب علم کو کلاس کے دوران موبائل فون استعمال کرتے ہوئے ٹیچر نے پکڑا اور پرنسپل کے دفتر لے جایا گیا، جہاں بچے نے 52 مرتبہ معافی مانگی، مگر اس کے باوجود اسکول انتظامیہ نے والدین کو اطلاع کر دی۔
اہلِ خانہ کے مطابق بچے کو شدید خوف لاحق تھا کہ والدین کو بتانے کے بعد اس کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا جائے گا۔
14 سالہ طالب علم نے 52 بار معافی مانگی پھر تیسری منزل سے چھلانگ لگادی 💔
یہ افسوسناک انڈیا میں پیش آیا جب چھٹی کلاس کے بچے کو موبائل استعمال کرتے ہوئے ٹیچر نے پکڑا اور پرنسپل کے آفس لے گئی، 52 بار معافی مانگنے کے باوجود پرنسپل نے والدین کو بتادیا..
اسی ڈر سے بچے نے چھلانگ لگا… pic.twitter.com/FRTA0NLfe0— Ather Salem® (@Atharsaleem01) December 20, 2025
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی خوف، شرمندگی اور ذہنی دباؤ کے عالم میں طالب علم نے انتہائی قدم اٹھایا۔
واقعے کے بعد اسکول انتظامیہ پر غفلت اور غیر انسانی رویے کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان پہلگام میں ملوث نہیں تھا، بھارت جواب دے، اقوام متحدہ
سوشل میڈیا پر واقعے کے بعد شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جہاں صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایک موبائل فون کی غلطی بچے کی جان سے زیادہ قیمتی تھی؟
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو سزا اور دھمکی کے بجائے رہنمائی اور نفسیاتی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔
واقعے نے بھارتی تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت، اساتذہ کے رویّے اور اسکول ڈسپلن کے نام پر اختیار کی جانے والی سختیوں پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
